پنجاب میں 2006 ماڈل اور اس سے پرانی گاڑیاں ہمیشہ کیلئے بند، نئی قانون سازی کی تیاری ہوگئی

لاہور ( پنجاب پوسٹ) صوبہ پنجاب کی نیو انرجی وہیکل پالیسی کے تحت صوبے میں 20 سال سے زیادہ پُرانی گاڑیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے حتمی مسودہ تیار کرلیا گیا ہے،جسے کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

دستاویزات کے مطابق پہلے مخصوص شہری علاقوں اور بعد میں صوبے بھر کی سڑکوں سے 20 سال سے پرانی گاڑیوں کو مرحلہ وار ہٹایا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ الیکٹرک گاڑیوں کو ٹیکس میں 95 فیصد تک رعایت دینے، سرکاری گاڑیوں کی خرید مکمل طور پر برقی بنانے اور تین ہزار سے زیادہ چارجنگ سٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے

مزید پڑھیں : ٹریفک والوں کا عجب رویہ ، موٹر سائیکل سواروں کو روک لیا جاتا ہے ، دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں چھوڑ دی جاتی ہیں، لاہور ہائیکورٹ

پنجاب میں اگر کسی گاڑی کو رجسٹر ہوئے 20 سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے تو آئندہ چند برسوں میں اس کا شہروں کے بعض حصوں میں داخلہ محدود کردیا جائے گا۔اگر وہ کمرشل گاڑی ہے تو 2031 سے 2035 کے درمیان اسے پورے صوبے میں سڑک سے ہٹانے کی منصوبہ بندی بھی اس مسودے کا حصہ ہے۔تاہم منصوبہ یہ ہے کہ پہلے گاڑیوں کی عمر جانچنے کا ڈیجیٹل نظام قائم کیا جائے گا، پھر لاہور اور فیصل آباد جیسے شہروں میں محدود علاقوں میں اس پر عمل درآمد شروع ہو گا۔ 20 سال سے پرانی گاڑیوں کے مالکان کو گاڑی سکریپ کرنے اور نئی انرجی وہیکل خریدنے کے لیے مُراعات دی جائیں گی، اور اس کے بعد پابندیوں کا دائرہ بتدریج وسیع ہو گا۔

20 برس پُرانی گاڑی کو کیسے روکا جائے گا؟

عرب میڈیا کے مطابق گاڑی کی عمر اس کی رجسٹریشن کی تاریخ سے شمار کی جائے گی۔ 20 سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کے لیے ایک ہی دن میں صوبہ بھر میں پابندی کے بجائے ڈیجیٹل نگرانی، کم اخراج والے علاقوں، سکریپج سکیم اور مرحلہ وار نفاذ کا ماڈل اپنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : لاہور میں گاڑیاں شہریوں کی زندگی کیلئے بڑا خطرہ کیسے بن گئیں ؟

اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں لاہور اور فیصل آباد میں گاڑیوں کی عمر کی تصدیق کے ڈیجیٹل نظام کے پائلٹ سے شروع ہونا تھا۔ یہ نظام پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور محکمہ ایکسائز کے ریکارڈ کو ٹریفک انفورسمنٹ اور مجوزہ این ای وی ریگولیٹری ادارے کے ڈیش بورڈ سے منسلک کرے گا۔

مزید پڑھیں : الیکٹرک گاڑیاں اب پاکستان میں بنیں گی، پنجاب حکومت کے چین کے ساتھ 17 نئے معاہدے

اگلے مرحلے میں پنجاب موٹر وہیکلز آرڈیننس میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں تاکہ کم اخراج والے علاقوں، عمر کی بنیاد پر پابندیوں اور خلاف ورزی پر جرمانوں کو قانونی حیثیت دی جا سکے۔ اسی طرح موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے رضاکارانہ سکریپج سکیم شروع کرنے کا منصوبہ بھی پالیسی میں شامل ہے۔ اس کے تحت اپنی پرانی گاڑی ختم کروانے والے مالک کو نئی الیکٹرک گاڑی کی خرید میں رعایت، براہ راست ریبیٹ یا کسی ممکنہ لیز ٹو اون سکیم سے فائدہ دیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں : اب کیمیکل، رنگ ، الیکٹرک گاڑیاں اور لیتھیم بیٹریز پنجاب میں بنیں گی ، بڑے منصوبوں پر کام شروع

پالیسی کے مطابق 2027 میں ڈیجیٹل عمر جانچنے کا نظام تمام اضلاع اور گاڑیوں کی تمام اقسام تک پھیلایا جائے گا۔سنہ 2028 سے 2030 کے دوران 20 سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں پر پہلے کم اخراج والے شہری علاقوں میں پابندیاں شروع ہوں گی، جن کے نفاذ میں کیمروں، سمارٹ نمبر پلیٹس اور ڈیجیٹل رجسٹریشن ریکارڈ کو استعمال کرنے کی تجویز ہے۔

مزید پڑھیں : لاہور ، 6 ماہ میں 5 لاکھ چالان، 1لاکھ گاڑیاں ضبط ، لین اور لائن کی پابندی نہ کرنیوالی موٹر سائیکل تین دن تھانے میں بند رہے گی

اسی طرح 2031 سے 2035 کے دوران 20 سال سے زیادہ پرانی کمرشل گاڑیوں کو پورے پنجاب میں مرحلہ وار ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ نجی کاروں کو بھی 2033 تک اس نظام میں شامل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔پالیسی کا خاص ہدف صرف پرانی کاریں نہیں بلکہ غیر منظور شدہ چنگ چی طرز کی گاڑیاں، غیر منظم ایل پی جی رکشے، ٹو سٹروک موٹرسائیکلیں اور ڈیزل پر چلنے والی پرانی پبلک اور کمرشل ٹرانسپورٹ بھی ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے