الیکٹرک گاڑیاں اب پاکستان میں بنیں گی، پنجاب حکومت کے چین کے ساتھ 17 نئے معاہدے

لاہور (پنجاب پوسٹ) پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے متعدد مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاک چین شراکت داری اب سفارتی تعلقات سے آگے بڑھ کر صنعت، ٹیکنالوجی، زراعت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں عملی تعاون کی نئی منزلیں طے کر رہی ہے۔

وزیر صنعت پنجاب شافع حسین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے چین کے ساتھ 16 سے 17 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں، جن میں سے چار پر عملی کام شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ویوو موبائل کی مقامی مینوفیکچرنگ، سیرامکس، الیکٹرک گاڑیوں اور لیتھیم بیٹریوں کی تیاری کے منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں، جبکہ فیصل آباد کے صنعتی زون میں 50 فیکٹریاں قائم ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی سرمایہ کاری سے ٹیکسٹائل، جوتا سازی، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ پاک چین مشترکہ سرمایہ کاری نوجوانوں کے لیے روزگار، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کے نئے دروازے کھولے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

چین کے قونصل جنرل سن یان نے کہا کہ پاکستان اور چین کی 75 سالہ دوستی ہر آزمائش میں مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے، زراعت، ٹیکسٹائل، تعلیم، مصنوعی ذہانت، پانی کے تحفظ، ہوم اپلائنسز اور کراس بارڈر ای کامرس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا اور چین پنجاب کی صنعتی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔

تقریب سے ڈی جی پیمرا، چیئرمین و ڈی جی ٹی ڈی اے پی، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی، چیئرپرسن ٹیوٹا، ہوم، توانائی اور تعلیم کے محکموں کے نمائندوں سمیت مختلف شعبوں کے سربراہان نے بھی خطاب کیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے