ان اللہ مع الصابرین ،کرکٹ بہتر ہونے میں ٹائم لگے گا ، خطرے کی گھنٹی بہت پہلے بج چکی تھی ، پی ایس ایل نے 10 سال میں ٹیلنٹ نہیں دیا ،وسیم اکرم

لاہور(پنجاب پوسٹ ) سابق کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم وسیم اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ کو گزشتہ پانچ، چھ سال سے اسی طرح دیکھ رہا ہوں، پی ایس ایل میں بھی کام کیا، اب قوم کو سچ بتانا ہوگا کیونکہ عوام کو قومی ٹیم سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش سے ہوم اینڈ اوے سیریز ہار چکا ہے، خطرے کی گھنٹی پہلے ہی بج چکی تھی لیکن اس پر کام نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ کوچ کوئی بھی ہو، چاہے بہترین کوچ آ جائے یا کرسٹِن آ جائے، دستیاب ٹیلنٹ وہی ہے۔ ہمارے پاس اگر ایسا ٹیلنٹ ہو جیسا ہمسایہ ملک میں 14 سالہ کھلاڑی سامنے آیا تو وہ بھی نمایاں ہو جائے گا۔

وسیم اکرم نے کہا کہ پی ایس ایل کو 10 سال ہو چکے ہیں لیکن لیگ نے ایک بھی نمایاں بیٹر پیدا نہیں کیا، البتہ اچھے بولرز ضرور سامنے آئے ہیں۔ پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کا جو نظام بنایا ہے اسے تین، چار سال چلنے دینا چاہیے۔ صبر اور پلاننگ کے علاوہ کوئی شارٹ کٹ نہیں۔

سابق کپتان نے کہا کہ جس طرح ہر پاکستانی قومی ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر افسردہ ہوتا ہے، وہ بھی اسی طرح افسردہ ہوتے ہیں۔ وائٹ بال ٹیم کی صورتحال بہتر ہے لیکن ریڈ بال کرکٹ میں پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کلب کرکٹ کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کو کراچی اور لاہور میں کلب کرکٹ پر دس، دس کروڑ روپے خرچ کرنے چاہئیں، کیونکہ ٹیلنٹ کلب کرکٹ سے ہی آنا ہے۔

وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ ٹیم میں تسلسل ہونا چاہیے، تاہم کھلاڑی وہی ہیں اور وہی آتے جاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے بیٹنگ تکنیک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض بیٹرز کا فرنٹ فٹ نہیں نکلتا اور وہ رابنسن جیسے بولرز کے خلاف کریز میں کھڑے ہو کر کھیلتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو مضبوط انداز میں کھیلنا چاہیے، تاہم اس کے لیے ٹیلنٹ ضروری ہے۔ ایک گیند 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کرنا کوئی بڑی بات نہیں، اصل کمال پورا دن 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرنا ہے۔

نوجوان فاسٹ بولرز کے حوالے سے وسیم اکرم نے کہا کہ انہیں دیکھ کر فوری طور پر پرجوش ہونے کے بجائے انہیں کھیلنے کا موقع دینا چاہیے، اس کے بعد ہی ان کی کارکردگی کی بنیاد پر رائے قائم کی جائے۔

شاہین شاہ آفریدی کے حوالے سے سابق کپتان نے کہا کہ وہ تجربہ کار بولر ہیں، انہیں معلوم نہیں کہ شاہین کی رفتار کیوں کم ہوئی، تاہم انگلینڈ میں ایسے تجربہ کار بولر کی ضرورت ہوتی ہے۔

وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان نے انگلینڈ میں ایک جیسی رفتار رکھنے والے فاسٹ بولرز بھیجے، کم از کم ایک آدھ تیز رفتار بولر بھی بھیجا جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق اگر وہ ٹیم کا حصہ ہوتے تو عاقب جاوید کو منتخب کرنے کا کہتے، جنہوں نے حال ہی میں انگلینڈ میں اچھی بولنگ کی ہے۔سابق کپتان نے کہا کہ پاکستان کے کھلاڑی بھی ایسی ہی کنڈیشنز میں کھیلتے رہے ہیں اور ماضی میں قومی ٹیم کے پاس بولنگ میں ورائٹی موجود تھی، تمام بولرز ایک جیسے نہیں تھے۔غ

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے