لاہور ( پنجاب پوسٹ ) صوبائی وزیر صنعت، پیداوار و خصوصی اقدامات چوہدری شافع حسین نے کہا ہے کہ پنجاب میں صنعتی ترقی کے لیے جامع پالیسی پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے، فری انڈسٹریل زونز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں صنعتوں کے لیے زیرو ٹیکس اور دس سال تک ٹیکس چھوٹ دی جائے گی، جبکہ ای وی گاڑیوں، لیتھیم بیٹریز، موبائل فون، جوتا سازی اور دیگر شعبوں میں نئی صنعتیں لگائی جا رہی ہیں۔
لاہور میں 11ویں کلر اینڈ کیم ایکسپو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری شافع حسین نے کہا کہ نمائش میں تقریباً 300 مقامی و بین الاقوامی اسٹالز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ایران، جرمنی، چین اور بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک کی کمپنیوں نے بھی شرکت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیمیکل سیکٹر اربوں روپے کی صنعت ہے اور اگر پاکستان میں نیفتھا کریکر پلانٹ قائم ہو جائے تو کیمیکل اور رنگوں کی بڑی صنعت مقامی سطح پر فروغ پا سکتی ہے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں فری انڈسٹریل زونز بنائے جا رہے ہیں، جہاں مشینری ڈیوٹی فری درآمد کی جا سکے گی۔ ویوو موبائل کی فیکٹری 40 فیصد مکمل ہو چکی ہے، جبکہ لیتھیم بیٹریز، جوتا سازی، ٹو اور تھری ویلرز، فارما، ٹائلز اور دیگر صنعتوں کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی زونز کے انفراسٹرکچر کے لیے فنڈز منظور ہو چکے ہیں اور ای وی گاڑیوں کے چارجنگ پوائنٹس بھی قائم کیے جائیں گے۔
چوہدری شافع حسین نے کہا کہ آسان قرضہ اسکیم کے تحت 10 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک قرضے دیے جا رہے ہیں، جبکہ ایک کروڑ سے 10 کروڑ روپے تک کے قرضوں کی نئی اسکیم بھی متعارف کرائی جا رہی ہے تاکہ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔
انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں متاثر ہو رہی ہیں، جس کا اثر مہنگائی پر بھی پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات معمول پر آنے سے تیل کی قیمتیں بھی مستحکم ہو جائیں گی۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب میں سستی لیبر اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی بدولت ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں صحت اور صنعت کے شعبوں میں بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔













