لاہور (پنجاب پوسٹ) بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ایم ڈی اقبال حسین خان نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی اور نائب صدر چودھری خادم حسین سے ملاقات کی۔ اجلاس میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تجارت کے فروغ، تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے اور مختلف شعبوں میں اقتصادی تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں اعزازی قونصل قاضی ہمایوں فرید اور لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نائلہ ندیم، شہزاد علی شاہ اور عامر عطا باری نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ایم ڈی اقبال حسین خان نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان باہمی تجارت میں کئی گنا اضافے کی صلاحیت موجود ہے اور دونوں ممالک تجارتی حجم کو کئی ارب ڈالر تک بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی رکاوٹیں دور کرکے دوطرفہ تجارت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
ہائی کمشنر نے زراعت، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری ویزوں میں آسانی، ای ویزا سہولتوں اور براہِ راست فضائی رابطوں میں بہتری سے تجارتی سرگرمیوں کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر نے کہا کہ لاہور چیمبر میں بنگلہ دیش کے لیے مخصوص تجارتی سیل قائم کیا جائے گا، جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے پانچ ترجیحی برآمدی شعبوں کی نشاندہی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے دونوں ممالک کے چیمبرز کے درمیان آن لائن کاروباری ملاقاتوں اور تجارتی وفود کے تبادلوں کی ضرورت پر زور دیا۔
سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی دوطرفہ تجارت کو کم از کم 2 ارب ڈالر تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل، چاول، سیمنٹ، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تجارت بڑھانے کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔نائب صدر چودھری خادم حسین نے کہا کہ مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان کاروباری روابط کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:دھی رانی پروگرام کے تحت رواں مالی سال پنجاب میں 5 ہزار اجتماعی شادیوں کا ہدف مقرر
ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن نائلہ ندیم نے میڈیکل سائنسز، زرعی آلات، پیکیجنگ اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے مواقع کی نشاندہی کی، جبکہ شہزاد علی شاہ نے پاکستان کی فارماسیوٹیکل اور کاسمیٹکس مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے امکانات پر زور دیا۔ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عامر عطا باری نے کہا کہ ٹیکسٹائل، انجینئرنگ اور صنعتی مصنوعات کے شعبوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔









