لاہور (پنجاب پوسٹ) چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس میں صنعت و تجارت کے فروغ، کاروباری قوانین کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل کے حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہارون اختر خان نے کانفرنس میں ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کاروباری قوانین اور ضوابط کو آسان بنانے اور غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ نئے قوانین کے نفاذ سے پہلے کاروباری برادری پر ان کے اثرات اور اخراجات کا جائزہ لیا جائے گا۔
کانفرنس سے صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی اور نائب صدر چودھری خادم حسین نے بھی خطاب کیا۔ شرکاء نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے، صنعتی ترقی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان بزنس پورٹل کے ذریعے کاروباری قوانین، منظوریوں اور درخواستوں کی پیش رفت آن لائن دستیاب ہوگی۔ درآمدات اور برآمدات کے لیے متعدد لائسنسوں اور منظوریوں کے طریقہ کار کو آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کاروباری افراد کو غیر ضروری پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ منظور شدہ اصلاحات پر عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی ایس آئی ایف سی کو کی جائے، جبکہ لاہور میں متعلقہ دفتر کاروباری برادری کی رہنمائی کرے گا۔
انہوں نے کاروباری اداروں کے معائنے کے نظام کو شفاف بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اداروں کو خامیاں دور کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی قوانین میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے حکومتوں، متعلقہ محکموں اور نجی شعبے کے درمیان مشاورت ضروری ہے۔
صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر نے کہا کہ صنعتوں کے خلاف ایف آئی آرز اور گرفتاریوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ معمولی خلاف ورزیوں پر فوجداری مقدمات درج کرنے کے بجائے قانون کے مطابق جرمانوں کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتوں کے خلاف تقریباً 400 ایف آئی آرز کے معاملے پر ایف آئی اے سے رابطہ کیا گیا ہے اور کاروباری برادری کے تحفظات دور کیے جانے چاہییں۔
علی حسام اصغر نے مطالبہ کیا کہ پنجاب کے تین قوانین اور وفاقی قوانین پر نظرثانی کرکے کاروباری برادری کے مسائل حل کیے جائیں۔ نئے قوانین کے مسودے منظوری سے پہلے متعلقہ چیمبرز آف کامرس کے ساتھ شیئر کیے جائیں تاکہ کاروباری نمائندے اپنی تجاویز پیش کر سکیں۔ انہوں نے کاروباری اداروں کے معائنے میں شفافیت یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے غیر ضروری کارروائیوں اور ہراسانی کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
سینئر نائب صدر لاہور چیمبر سردار عثمان غنی نے کہا کہ کاروباری قوانین آسان بنانے اور صنعتی مسائل حل کرنے کے لیے حکومت اور لاہور چیمبر کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ نائب صدر چودھری خادم حسین نے کہا کہ سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے۔
کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کاروباری قوانین میں اصلاحات، شفاف معائنہ نظام اور حکومتی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کے ذریعے صنعت و تجارت کو درپیش مسائل کم کیے جا سکتے ہیں، جبکہ کاروباری برادری سے مشاورت سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔









