ریسکیو 1122 کی 83 فیصد ایمبولینسز کی معیاد پوری، عدالت کی تازہ لسٹ فراہم کرنے کی ہدایت

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے صوبے میں آتشزدگی کے واقعات روکنے سے متعلق درخواست پر سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کو فریقین کی فریش لسٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی اور صوبہ بھر کے آر پی اوز سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آر پی اوز بتائیں کہ حادثات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔

عدالت نے صوبہ بھر کے ہسپتالوں کے ایم ایس سے مریضوں کو دی گئی سہولیات سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی، جبکہ میپکو، روڈا اور سی بی ڈی سے بھی رپورٹس پیش کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وقاص عمر سیال کو ہدایت کی کہ رپورٹس آئندہ سماعت تک آ جانی چاہئیں۔ اسی دوران چیف جسٹس نے ایل ڈی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ایل ڈی اے بلڈنگ کنٹرولنگ اتھارٹی نہیں ہے۔ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کی ایک متفرق درخواست کا جواب تاحال نہیں آیا۔

عدالت میں فیسکو، گیپکو، لیسکو، آئیسکو، این ڈی ایم اے، ایل ڈی اے، ریسکو، آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور نے اپنے جوابات جمع کرا دیے۔ والڈ سٹی کے وکیل بیماری کے باعث پیش نہ ہو سکے اور نہ ہی جواب داخل کرایا جا سکا۔ عدالت نے پہلے ہی این ڈی ایم اے، سیکرٹری صحت پنجاب اور ہسپتالوں کے ایم ایس کو جواب داخل کرانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ بلڈنگ کوڈ اور فائر ایکٹ پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے عمارتوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں، جبکہ ایمرجنسی ہیلی کاپٹر سروس شروع نہ ہونے سے کئی قیمتی جانیں ان حادثات کی نذر ہو گئیں۔ موقف میں بتایا گیا کہ شہر کی 6.78 فیصد عمارتیں فائر سیفٹی میں گریڈ ڈی ہیں، 682 عمارتیں ہائی رسک ہیں جبکہ 13 عمارتیں ناقابلِ رہائش ہیں۔ ریسکیو 1122 کی 83 فیصد ایمبولینسز اپنی میعاد پوری کر چکی ہیں۔

درخواست گزاروں کے مطابق 50 نئے فائر انجنز، لیڈر ٹرکس اور ہیلی کاپٹرز خریدے جانے چاہئیں، جبکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کا یکساں نظام، جدید آلات اور مشترکہ ڈیٹا بیس بھی موجود نہیں۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ شہر میں آتشزدگی کے واقعات کی انکوائری کا حکم دیا جائے، بلڈنگ کوڈ پر عمل درآمد اور عمارتوں میں متبادل ایگزٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے، اور تین منزلہ کمرشل عمارتوں کا 90 دن میں آڈٹ کیا جائے، جبکہ عدم تعمیل کی صورت میں ایسی عمارتیں سیل کر دی جائیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے