لاہور(پنجاب پوسٹ)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، تاہم یہ معاہدہ صرف فوجی تعاون تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، توانائی اور معاشی ترقی کے وسیع تعاون میں تبدیل کرنا ہوگا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، چین بڑی معاشی و تکنیکی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے، روس عالمی سطح پر نمایاں اسٹریٹجک اثر و رسوخ رکھتا ہے، امریکا اب بھی بڑی عالمی طاقت ہے جبکہ یورپ اپنے دفاعی و سلامتی کے نظام پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ خلیجی ممالک معاشی و سفارتی خودمختاری بڑھا رہے ہیں جبکہ ترکیہ ایک مضبوط اور خودمختار علاقائی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ترقی و امن کے لیے سب نے کردار ادا کرنا ہے، خواجہ سلمان رفیق
احسن اقبال نے کہا کہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی معاہدہ ہوا، جس پر وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے۔ معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک رکن ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔
وفاقی وزیر کے مطابق مکہ معاہدہ عالمی نظام کو چیلنج کرنے کے بجائے زیادہ مستحکم علاقائی اور عالمی نظام کی جانب ایک قدم ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے پاس بالترتیب دفاعی صلاحیت، معاشی وسائل، ٹیکنالوجی، صنعتی بنیاد اور اہم جغرافیائی حیثیت جیسے نمایاں اثاثے موجود ہیں، جنہیں باہمی تعاون کے ذریعے ترقی اور خوشحالی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کی اصل اہمیت صرف تین ممالک کی فوجی صلاحیتوں کو یکجا کرنے میں نہیں بلکہ اسے سکیورٹی، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں اور معاشی تعاون کے وسیع ڈھانچے کی بنیاد بنانے میں ہے۔ جغرافیائی سیاست کو جغرافیائی معیشت کے ساتھ جوڑنا ہوگا اور ایک بڑی طاقت پر انحصار ختم کرکے دوسری طاقت پر انحصار کرنا بھی مسئلے کا حل نہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی "سب سے دوستی، کسی پر انحصار نہیں” کے اصول پر مبنی ہونی چاہیے۔ پاکستان چین کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، امریکا کے ساتھ تعمیری تعلقات، یورپ کے ساتھ مضبوط شراکت داری اور تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن و باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ صرف فوجی طاقت کسی ملک کو طاقتور نہیں بنا سکتی۔ کمزور معیشت، درآمدی ٹیکنالوجی، غیر مؤثر ادارے اور کمزور تعلیم قومی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں۔ قومی طاقت کی بنیاد معاشی پیداوار، ٹیکنالوجی، انسانی سرمائے اور سماجی ہم آہنگی پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کے ثمرات مشترکہ دفاعی پیداوار، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، خلائی ٹیکنالوجی، توانائی، غذائی تحفظ اور اہم معدنیات تک پھیلنے چاہئیں۔ پاکستانی انسانی سرمایہ، ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور سعودی سرمایہ کاری کو یکجا کیا جائے تو خطے میں بڑی معاشی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی اگلی بڑی قومی جدوجہد جنگی طیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ برآمدات، تعلیم، ٹیکنالوجی، پیداوار، جدت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ہوگی۔ انہوں نے اس جدوجہد کو "مارکۂ ترقی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو کھپت پر مبنی معیشت سے پیداوار پر مبنی معیشت کی طرف منتقل ہونا ہوگا اور انحصار کو مسابقت میں تبدیل کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اڑان پاکستان کے تحت 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے جبکہ 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اہداف محض معاشی اعداد و شمار نہیں بلکہ پاکستان میں درکار بڑی تبدیلی کے پیمانے کی عکاسی کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے نوجوانوں کو پاکستان کے مستقبل کی کلیدی قوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی میں عالمی مقابلہ مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس، قابلِ تجدید توانائی، جدید مواد اور خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں ہوگا۔ جو ممالک ان شعبوں میں مہارت حاصل کریں گے وہ مستقبل کے عالمی قواعد تشکیل دیں گے۔
احسن اقبال نے کہا کہ جامعات کو قومی تبدیلی کی تجربہ گاہیں بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے انہیں مسائل حل کرنے، تحقیق، جدت اور تخلیقی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے۔ ان کے بقول میزائل دشمن کو روک سکتے ہیں لیکن قوموں کا مستقبل علم طے کرتا ہے، جبکہ جنگی طیارے فضائی حدود کا دفاع کر سکتے ہیں مگر مستقبل کی اصل حفاظت مضبوط جامعات اور تعلیم یافتہ نسل کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ تینوں ممالک پر نئی ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو ثابت کرنا ہوگا کہ بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک صلاحیت زیادہ ذمہ داری اور امن کا باعث بنتی ہے، زیادہ محاذ آرائی کا نہیں۔ تینوں ممالک کی مشترکہ طاقت کو سفارت کاری، تنازعات کے پرامن حل اور مشرقِ وسطیٰ سمیت خطے میں استحکام کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔
حسن اقبال نے کہا کہ مکہ معاہدے کو فلسطینی عوام کے لیے انصاف کی آواز مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اکیسویں صدی کا مستقبل بیسویں صدی کے فوجی بلاکس کی تشکیل نو نہیں بلکہ ذمہ دار خودمختاری پر مبنی نئے علاقائی اور عالمی نیٹ ورکس کی تشکیل ہونا چاہیے۔










