اوکاڑہ (پنجاب پوسٹ) ٹیکس لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی ہڑتال کے دوران اوکاڑہ میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور تاجروں کے درمیان دکانیں بند کروانے کے معاملے پر تلخ کلامی اور مبینہ ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا۔
تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی اوکاڑہ کے بعض سینئر رہنماؤں اور کارکنان نے ہڑتال کے دوران گول چوک میں دکانیں بند کروانے کی کوشش کی۔ دکانداروں اور تاجروں نے دکانیں بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس پر دونوں فریقین کے درمیان مبینہ طور پر تلخ کلامی ہوئی اور معاملہ ہاتھا پائی تک جاپہنچا۔
واقعے کی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے، جس میں دکانداروں اور جماعت اسلامی کے کارکنان کے درمیان تلخ کلامی اور دکانیں بند کروانے کی کوشش دیکھی جاسکتی ہے۔
واقعے کے بعد شہریوں اور تاجر برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ تاجروں نے اعلیٰ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاجر برادری کا کہنا ہے کہ ان کے بچے بھوکے ہیں اور کاروبار بند ہونے سے روزانہ کی آمدن متاثر ہوتی ہے، اس لیے وہ دکانیں بند نہیں کرسکتے۔ تاجروں نے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی کہ انہیں کاروبار کرنے دیا جائے۔
تاجروں کا مزید کہنا تھا کہ غنڈہ گردی کے ذریعے احتجاج یا ہڑتال نہیں ہوتی، وہ اپنی جگہوں کے بجلی کے بل سمیت دیگر اخراجات ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں کاروبار جاری رکھنے دیا جائے۔










