لاہور کی سڑکوں میں حادثات، روڈ انجینیرنگ میں کیا تبدیلیاں کی جارہی ہیں؟

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور میں محفوظ سفر، ٹریفک کی بہتر روانی اور حادثات کی روک تھام کے لیے روڈ انجینئرنگ کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے محفوظ پنجاب، محفوظ روڈز کے وژن کے تحت لاہور ٹریفک پولیس اور ٹیپا افسران کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کی اہم شاہراہوں، داخلی و خارجی راستوں اور ٹریفک کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی زیرِ صدارت اجلاس میں روڈ انجینئرنگ کے باعث پیدا ہونے والے ٹریفک مسائل اور حادثات کے ہاٹ اسپاٹ مقامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی جہاں ناقص یا نامناسب روڈ انجینئرنگ کے باعث حادثات کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حادثات کی روک تھام کے لیے ہاٹ اسپاٹ ایریاز میں روڈ انجینئرنگ کو بہتر بنایا جائے گا، جبکہ ٹریفک کنجیشن کا باعث بننے والے غیر ضروری کٹس، یوٹرنز اور دیگر رکاوٹ پیدا کرنے والے مقامات کو بند کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

مال روڈ، جیل روڈ اور مین بلیوارڈ گلبرگ پر پیدل چلنے والے شہریوں کی سہولت اور حفاظت کے لیے پیڈسٹریئن برجز اور اوور ہیڈ برجز بنانے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔ ٹیپا کی جانب سے نشاندہی کیے گئے روڈ انجینئرنگ مسائل کے حل کے لیے مؤثر لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کا کہنا تھا کہ محفوظ سفر اور بہتر ٹریفک روانی کے لیے روڈ انجینئرنگ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مؤثر ٹریفک نظام کا انحصار روڈ انجینئرنگ، انفورسمنٹ اور ٹریفک ایجوکیشن کے مؤثر امتزاج پر ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے