لاہور: (پنجاب پوسٹ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور انہیں جدید ہنر فراہم کرنے کے لیے "سحر پروگرام” کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اہم منصوبے کے تحت پنجاب بھر کی 5,365 خواتین کو گھر بیٹھے جدید ووکیشنل اور فنی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ روزگار کے بہتر مواقع حاصل کر سکیں اور ملکی معیشت میں فعال کردار ادا کریں۔
یہ بھی پڑھیں:بے نظیر بھٹو کا 73واں یوم پیدائش، اوکاڑہ میں خواتین کی جانب سے قرآن خوانی کا اہتمام
حکام کے مطابق ہنرمند اور باصلاحیت لیبر فورس کی تیاری کے لیے شروع کیے گئے اس منصوبے پر 97 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ پروگرام کا مقصد خواتین کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا، انہیں خود کفیل بنانا اور گھریلو سطح پر آمدن کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
سحر پروگرام کے تحت خواتین کو بیوٹیفکیشن سروسز، ہاسپٹیلٹی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔ اس سلسلے میں چار اضلاع میں 2,065 خواتین کے لیے نجی شعبے کے تعاون سے خصوصی بیوٹیفکیشن کورسز بھی شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ خواتین مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارت حاصل کر سکیں۔
پروگرام کی نمایاں خصوصیات میں تربیت کے دوران خواتین کو لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ ڈیوائس، ڈیٹا پیکج اور ماہانہ وظیفے کی فراہمی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دینا اور سیکھنے کے عمل کو مزید آسان اور مؤثر بنانا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سحر پروگرام میں شامل خواتین اور تربیت مکمل کرنے والی شرکاء کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی خواتین صوبے کا قیمتی سرمایہ ہیں اور حکومت انہیں بااختیار اور خودمختار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سحر پروگرام خواتین کو ترقی، باعزت روزگار اور خود انحصاری کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب خواتین کی فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے اور معاشی استحکام فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر معاشرے اور ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔













