غازی آباد تھانہ میں ذہنی معذور لڑکی کی آبرو ریزی، پولیس کو اہم ثبوت مل گئے، کیا پیش رفت سامنے آئی ہے؟

لاہور(پنجاب پوسٹ) غازی آباد تھانے میں پولیس اہلکار پر ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی کے مبینہ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی

ابتدائی تحقیقات کے مطابق متاثرہ خاتون کا تھانے میں موجود ہونا ثابت ہو گیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون تقریباً 30 سے 35 منٹ تک تھانے میں موجود رہی، جبکہ کئی گھنٹوں تک قیام کے شواہد نہیں مل سکے۔

مزید تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ متاثرہ خاتون اس سے قبل گداگری کے ایک مقدمے میں ملوث رہی تھی، جہاں ملزم اے ایس آئی عمران نے سفارش کرتے ہوئے اسے تھانے سے رہائی دلوانے میں کردار ادا کیا تھا۔ اسی بنیاد پر دونوں کے درمیان پہلے سے رابطہ ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی انویسٹی گیشن اور جینڈر سیل ٹیم نے ملزم عمران اور متاثرہ خاتون سے تقریباً دو گھنٹے تک تفتیش کی ہے، جبکہ پولیس نے اے ایس آئی عمران کے مختلف ٹیسٹ بھی کروائے ہیں۔

ملزم عمران نے اپنے بیان میں زیادتی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ تاہم، خاتون کو تھانے لانے سے متعلق سوال پر ملزم نے تفتیشی حکام کو متضاد بیانات دیے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی حتمی حقیقت فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد واضح ہو سکے گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے