لاہور: ۰پاکستان میں کاروباری خواتین کے لیے ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اب وہ خواتین جو اپنے خوابوں کو کاروبار کی شکل دینا چاہتی ہیں یا پہلے سے اپنا کاروبار چلا رہی ہیں، انہیں سرمایہ حاصل کرنے کے لیے طویل کاغذی کارروائی اور دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے "خودمختار خاتون پروگرام”کے تحت ملک کی پہلی ڈیجیٹل قرضہ اسکیم کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد خواتین کاروباری افراد کو مالی طور پر بااختیار بنانا ہے۔
اس نئی اسکیم کے تحت خواتین کی زیرِ نگرانی چلنے والے مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کو ان کے کریڈٹ اسسمنٹ کی بنیاد پر ایک لاکھ روپے سے 15 لاکھ روپے تک فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔ یہ پاکستان کی اپنی نوعیت کی پہلی ڈیجیٹل قرضہ پروڈکٹ ہے جو خواتین کو جدید اور آسان طریقے سے مالی معاونت فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں :مریم نواز کا "سحر پروگرام” شروع، 5 ہزار سے زائد خواتین کو گھر بیٹھے فنی تربیت اور ماہانہ وظیفہ ملے گا
ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دے گا بلکہ ملک میں خواتین کی معاشی شمولیت اور خودمختاری کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔ اس اسکیم سے چھوٹے کاروباروں کی ترقی، روزگار کے نئے مواقع اور قومی معیشت میں خواتین کے کردار کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
حکومتی اور کاروباری حلقوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خواتین کے معاشی استحکام اور کاروباری ترقی کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے۔ اب ایک اچھا کاروباری خیال رکھنے والی خواتین کے لیے سرمایہ تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو جائے گی، اور ان کے خواب حقیقت کا روپ دھار سکیں گے۔








