شکر گڑھ ( پنجاب پوسٹ ) ضلع ہنگو میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے دوران فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 7 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ ترجمان افواج پاکستان کے مطابق آپریشن دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کیا گیا، جس میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے مسجد میں پناہ لینے کی کوشش کی اور عبادت گاہ کے تقدس کو پامال کیا۔ سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 7 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
فائرنگ کے شدید تبادلے میں پاک فوج کے 27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم بھی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ کیپٹن حمزہ اکرم کا تعلق نارووال سے تھا۔ ترجمان کے مطابق شہید کیپٹن حمزہ اکرم نے انتہائی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن کو فرنٹ سے لیڈ کیا اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت حاصل کی۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ہلاک دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور عام شہریوں کے قتل سمیت دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔
آپریشن کے بعد علاقے میں موجود دہشت گردوں کے ساتھیوں اور ممکنہ سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے کو کلیئر کرنے اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب شہید کیپٹن حمزہ اکرم کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں پنڈی سینیاں میں فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں عسکری و سول حکام، اعلیٰ فوجی افسران، عوامی نمائندوں، اہل علاقہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
شہید کیپٹن حمزہ اکرم کو مکمل سرکاری و فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا، جبکہ پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے شہید کو سلامی پیش کی۔ نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر فضا سوگوار رہی، جبکہ اہل خانہ اور شہریوں نے وطن کے دفاع کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہید افسر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ترجمان افواج پاکستان کے مطابق ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کے لیے عزمِ استحکام کے تحت کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی، جبکہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاون نیٹ ورک کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔














