لاہور میں بجلی چوری کے واقعات میں اضافہ، صرف 8 ماہ میں 12000 گرفتار، چوری کیسے کی جارہی تھی؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) لاہور میں بجلی چوری کے خلاف پولیس اور لیسکو کی مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں، رواں سال مختلف کارروائیوں کے دوران بجلی چوری میں ملوث 12 ہزار 172 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق شہر کے مختلف تھانوں میں بجلی چوری کے الزام میں 10 ہزار 867 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق بجلی چوری کی روک تھام کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس اور لیسکو کی ٹیمیں مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں، جن کے دوران بجلی کے میٹروں میں ٹمپرنگ، کنڈوں اور بجلی چوری کے لیے استعمال ہونے والے دیگر ذرائع کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے ہدایت کی ہے کہ بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں اور بجلی کے میٹرز میں ٹمپرنگ، کنڈوں اور دیگر غیرقانونی ذرائع سے بجلی استعمال کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ بجلی چوری میں سہولت کاری کرنے والے عناصر بھی قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ انہوں نے بجلی چوری میں استعمال ہونے والی ڈیوائسز تیار کرنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی، جبکہ پولیس اور لیسکو کی ٹیمیں بجلی چوری کی روک تھام اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں مزید مؤثر بنائیں گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے