لاہور:(پنجاب پوسٹ) ہائیکورٹ نے ایف سی کالج یونیورسٹی کے یوینگ ہاسٹل کی اراضی پر حکومت پنجاب کے مبینہ قبضے کے خلاف دائر درخواست پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے حکومت پنجاب اور بورڈ آف ریونیو کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک ہاسٹل کی زمین پر حکومتی قبضے کی کسی بھی کارروائی کو روک دیا ہے۔جسٹس احمد ندیم ارشد نے ایف سی کالج یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نیر فردوس کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد تحریری حکم جاری کیا۔ عدالت نے بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس پر بھی عملدرآمد معطل کر دیا اور حکم دیا کہ آئندہ عدالتی فیصلے تک کسی قسم کی پیش رفت نہ کی جائے۔
درخواست گزار کے مطابق حکومت پنجاب نے 1915 میں ایف سی کالج کے لیے مذکورہ اراضی لیز پر دی تھی اور وقتاً فوقتاً اس لیز میں توسیع بھی کی جاتی رہی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایف سی کالج کے زیر انتظام مجموعی طور پر نو ہاسٹلز ہیں جبکہ نیلا گنبد کے علاقے میں واقع یوینگ ہاسٹل تقریباً 11 کنال 11 مرلہ اراضی پر قائم ہے جہاں اس وقت 99 طلبہ رہائش پذیر ہیں۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ بورڈ آف ریونیو کے ممبر کالونیز نے اس اراضی کو حکومتی تحویل میں لینے کے لیے شوکاز نوٹس جاری کیا، حالانکہ لینڈ ریونیو ایکٹ 1912 کے تحت ایسا نوٹس جاری کرنے کا اختیار صرف کلکٹر یا تحصیلدار کے پاس ہے۔ اس لیے مذکورہ نوٹس قانونی اختیار سے تجاوز اور قانون کے منافی ہے۔
درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایف سی کالج 1972 سے 2007 تک قومی تحویل میں رہا اور بعد ازاں اسے دوبارہ اس کے اصل انتظامیہ کے حوالے کیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق ہاسٹل کی اراضی کو واپس لینے کا حکومتی اقدام نہ صرف غیر قانونی بلکہ بدنیتی پر مبنی بھی ہے اور اس سے طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔عدالت سے استدعا کی گئی کہ حکومت پنجاب اور بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس اور ہاسٹل کی زمین واپس لینے کے اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے۔ لاہور ہائیکورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے جبکہ آئندہ سماعت تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
















