فیصل آباد ( حافظ محمد عمر رضا ) سٹی ٹریفک پولیس فیصل آباد میں مبینہ طور پر چالان کے اہداف، محکمانہ سزاؤں اور ویلفیئر فنڈ میں بے ضابطگیوں کے خلاف ایک ٹریفک وارڈن نے اپنے ہی محکمے کے سربراہ سی ٹی او فیصل آباد کے خلاف صوبائی محتسب پنجاب لاہور سے رجوع کرلیا۔
ڈرائیونگ سکول ڈجکوٹ میں تعینات ٹریفک وارڈن عثمان کی جانب سے صوبائی محتسب پنجاب کو جمع کرائی گئی درخواست میں سی ٹی او فیصل آباد کی مبینہ پالیسیوں اور اقدامات پر سنگین نوعیت کے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹریفک کی روانی اور شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے موجودہ صورتحال میں مبینہ طور پر زیادہ سے زیادہ چالان کرنے پر زور دیا جا رہا ہے اور مقررہ تعداد میں چالان نہ کرنے والے وارڈنز کے خلاف محکمانہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
وارڈن عثمان کے مطابق کم چالان کرنے کی پاداش میں اسے بھی تین شوکاز نوٹس اور ایک چارج شیٹ جاری کی گئی، جبکہ مبینہ طور پر اس کی چھ ماہ کی سروس ضبط کرتے ہوئے سزا کے طور پر تبادلہ بھی کر دیا گیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ اس نوعیت کی کارروائیوں سے ٹریفک وارڈنز پر غیر ضروری دباؤ بڑھ رہا ہے اور انہیں ٹریفک مینجمنٹ کے بجائے چالان کی تعداد پوری کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔


درخواست میں ای-چالان کے حوالے سے بھی اہم اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ ٹریفک وارڈن کا کہنا ہے کہ ای-چالان کے لیے محکمہ کی جانب سے تمام اہلکاروں کو سرکاری موبائل، مناسب ڈیوائس یا انٹرنیٹ پیکیج فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے انہیں اپنی جیب سے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری ڈیوٹی کے لیے ضروری سہولیات فراہم کرنا محکمہ کی ذمہ داری ہے۔
ٹریفک وارڈن عثمان نے درخواست میں پولیس ویلفیئر فنڈ کے حوالے سے بھی مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے مطابق ٹریفک پولیس کا تقریباً سوا کروڑ روپے ماہانہ ویلفیئر فنڈ جمع ہوتا ہے، جس کی آمدن اور اخراجات کی تفصیلات شفاف انداز میں سامنے آنی چاہئیں۔ درخواست گزار نے فنڈ کے استعمال اور اہلکاروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب پولیس کا سرگودھا سے مغوی اہلکار کیسے بازیاب کرایا گیا؟
وارڈن عثمان نے اپنی درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 13 سال سے شوگر کے مرض میں مبتلا ہے اور اس دوران علاج کے سلسلے میں ویلفیئر فنڈ سے مدد کا خواہاں رہا۔ درخواست کے مطابق وہ گزشتہ چار ماہ کے دوران چار مرتبہ سی ٹی او کے سامنے پیش ہو چکا ہے، تاہم اس کے باوجود اسے مبینہ طور پر ویلفیئر فنڈ سے مالی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔
درخواست میں سابقہ ڈی ایس پی پر مبینہ کرپشن کے الزامات اور کمرشل گاڑیوں کے چالان کے معاملے میں مبینہ بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ وارڈن نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام معاملات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
صوبائی محتسب پنجاب کو دی گئی درخواست کے اختتام پر ٹریفک وارڈن عثمان نے استدعا کی ہے کہ اس کے خلاف مبینہ طور پر کی گئی غیر قانونی محکمانہ سزاؤں اور کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جائے، سی ٹی او فیصل آباد کے اقدامات کی باقاعدہ انکوائری کرائی جائے اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں محکمانہ اور فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے۔
درخواست گزار نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو دیگر پولیس فورسز کی طرح رسک الاؤنس دیا جائے اور انہیں سرکاری ڈیوٹی کی انجام دہی کے لیے ضروری وسائل اور سہولیات فراہم کی جائیں۔













