لاہور:(پنجاب پوسٹ) ڈویژن ریلوے کے آئی او ڈبلیو ون عملے پر سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جہاں فیض باغ میں واقع ایک خالی ریلوے رہائش گاہ کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے نجی شخص کے حوالے کرکے کرائے پر دینے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ سرکاری گھر ریلوے ملازم محمد رمضان کے نام الاٹ تھا، تاہم ایک کمرے کی دیوار گرنے کے بعد انہوں نے یہ رہائش گاہ خالی کر دی تھی۔دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گھر خالی ہونے کے بعد اسے ریلوے قواعد و ضوابط کے مطابق دوبارہ الاٹ کرنے کے بجائے مبینہ طور پر نجی استعمال کے لیے دے دیا گیا۔ مقامی ملازمین اور ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رہائش گاہ کافی عرصے سے غیر قانونی طور پر زیر استعمال ہے، جس پر ریلوے کے متعلقہ شعبے اور آئی او ڈبلیو ون عملے کے کردار کے حوالے سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
ملازمین کا الزام ہے کہ سرکاری املاک کے استعمال اور نگرانی کی ذمہ داری رکھنے والے متعلقہ افسران اس معاملے سے باخبر ہونے کے باوجود خاموش ہیں، جبکہ ریلوے انتظامیہ کی جانب سے بھی تاحال کوئی باضابطہ کارروائی یا تحقیقات سامنے نہیں آئیں۔ اس صورتحال کے باعث ڈی این ون اور دیگر متعلقہ افسران کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔متاثرہ ملازمین اور دیگر ذرائع نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔
واضح رہے کہ مذکورہ الزامات اور دعووں کے حوالے سے ڈی این ون سمیت متعلقہ حکام سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل کیے جانے تک ان کا کوئی مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ ریلوے حکام کی جانب سے مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس خبر میں شامل تمام الزامات اور دعوے متعلقہ ذرائع اور ملازمین کی جانب سے سامنے آئے ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ متعلقہ حکام کا مؤقف موصول ہونے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔















