چکوال:(پنجاب پوسٹ) میں سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے 9 سالہ بچی ہانیہ عدیل کی ہلاکت کے معاملے پر سول سوسائٹی نے چیف جسٹس آئینی عدالت سے ازخود نوٹس لینے کی درخواست کر دی۔ یہ خط سول سوسائٹی کے صدر عبد اللہ ملک کی جانب سے چیف جسٹس کو ارسال کیا گیا ہے۔خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 اور آرٹیکل 10 اے ہر شہری کو زندگی، آزادی اور منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق فراہم کرتے ہیں، جبکہ ریاستی اداروں پر شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں:چکوال سی سی ڈی اہلکار کے ہاتھوں معصوم بچی قتل، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا ہے؟
درخواست میں کہا گیا ہے کہ چکوال واقعے میں سی سی ڈی اہلکاروں نے مبینہ طور پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 9 سالہ معصوم بچی جان کی بازی ہار گئی۔ خط کے مطابق آسٹریلیا سے پاکستان آنے والا خاندان خوشگوار یادیں لے کر واپس جانا چاہتا تھا، تاہم اس افسوسناک واقعے نے انہیں ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔عبد اللہ ملک نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس اس واقعے کا فوری ازخود نوٹس لیں، متعلقہ سی سی ڈی افسران کو طلب کیا جائے اور واقعے کی مکمل وضاحت طلب کی جائے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض اوقات قانون نافذ کرنے والے ادارے عدالتی کارروائی مکمل ہونے سے قبل ہی شہریوں کو زندگی سے محروم کر دیتے ہیں اور مشتبہ افراد کو آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ٹرائل کے لیے عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا۔
درخواست گزار کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خود جج اور جلاد کا کردار ادا کرنے کے بجائے قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر کارروائی کرنی چاہیے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ چکوال واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔














