لاہور میں محرم سکیورٹی ہائی الرٹ: 4 ہزار مجالس، 373 امام بارگاہیں، ایک لاکھ اہلکار تعینات

لاہور ( پنجاب پوسٹ) سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے پولیس لائنز میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات کی تفصیلات جاری کر دیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میں 373 امام بارگاہیں اور 93 مساجد موجود ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد مجالس منعقد ہوں گی، جنہیں سکیورٹی کے پیش نظر اے، بی اور سی کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

سی سی پی او کے مطابق عشرہ محرم کے دوران ایک لاکھ سے زائد پولیس افسران و اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دیں گے جبکہ نگرانی کے لیے شہر بھر میں 9 کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں۔ سیف سٹی اتھارٹی چوبیس گھنٹے جلوسوں اور مجالس کی مانیٹرنگ کرے گی اور امام بارگاہوں میں کیو آر پینک بٹن بھی نصب کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ محرم کے دوران جلوسوں اور مجالس کے اوقات کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی جبکہ مرکزی تین جلوسوں کے لیے چار حصار پر مشتمل سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ لاؤڈ اسپیکر کے غیر مجاز استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے دفعہ 144 بھی نافذ کر دی گئی ہے۔

بلال صدیق کمیانہ نے مزید بتایا کہ ڈولفن فورس اور اینٹی رائیٹ فورس شہر میں مسلسل پٹرولنگ کریں گی جبکہ کومبنگ اور سرچ آپریشنز بھی جاری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔

جرائم کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سی سی پی او نے کہا کہ 2023 کے بعد سے جرائم میں بتدریج کمی آ رہی ہے اور رواں سال گزشتہ سال کے مقابلے میں 55 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نو لاکھ سے زائد کیسز حل کیے جا چکے ہیں جبکہ ڈکیتی و قتل کے مقدمات میں چالان کی شرح 90 فیصد ہے۔ مزید برآں، تیرہ لاکھ کیسز مکمل کر کے عدالتوں میں بھجوائے گئے اور گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محرم الحرام کے دوران سکیورٹی خدشات کے پیش نظر تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ امن و امان کی فضا برقرار رکھی جا سکے۔ سی سی پی او کے مطابق سی سی ڈی اپنی مقررہ حدود کے اندر کیسز پر کام کر رہی ہے اور متعلقہ کیسز کی تفتیش اسی کے سپرد کی جاتی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے