3 محرم الحرام: لاہور میں سکیورٹی ہائی الرٹ، 395 مجالس اور 18 عزاداری جلوسوں کی نگرانی جاری

لاہور:(پنجاب پوسٹ) 3 محرم الحرام کے موقع پر صوبائی دارالحکومت لاہور میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ترجمان لاہور پولیس کے مطابق آج لاہور میں مجموعی طور پر 395 مجالس اور 18 عزاداری جلوس برآمد ہو رہے ہیں، جن کی حفاظت کے لیے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ترجمان لاہور پولیس نے بتایا کہ منعقد ہونے والی مجالس میں 46 اے کیٹیگری، 263 بی کیٹیگری اور 86 سی کیٹیگری کی مجالس شامل ہیں۔ تمام حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کے لیے پولیس کے چاق و چوبند افسران اور جوان فرائض انجام دے رہے ہیں۔


لاہور پولیس کے مطابق عزاداری جلوسوں اور مجالس کی سیف سٹی اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کے جدید کیمروں کے ذریعے مسلسل ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں، اہم چوراہوں اور جلوسوں کے روٹس پر بھی سخت نگرانی جاری ہے۔
سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران قیام امن اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے لاہور پولیس مکمل طور پر الرٹ ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروایا جا رہا ہے اور تمام فیلڈ فارمیشنز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈولفن اسکواڈ، پولیس ریسپانس یونٹ (پیرو)، اینٹی رائٹ فورس، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ یونٹس کو خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جبکہ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو انتہائی چوکس رہنے اور اپنے اردگرد کے ماحول پر گہری نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سی سی پی او لاہور کے مطابق تمام مجالس اور عزاداری جلوسوں کے پرامن اختتام تک سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات اور فوری رسپانس کا مکمل نظام فعال رکھا گیا ہے۔ لاہور پولیس نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے