بخارسٹ (پنجاب پوسٹ) رومانیہ میں پاکستان کے سفارت خانے کی جانب سے بوزاؤ کاؤنٹی میوزیم میں “پاکستان: ایک داستان کے اوراق” کے عنوان سے تصویری نمائش کا افتتاح کر دیا گیا۔
نمائش کا آغاز “یورپین نائٹ آف میوزیم” کے موقع پر کیا گیا جبکہ یہ آئندہ چار ہفتوں تک جاری رہے گی۔
مزید پڑھیں: عالمی امن میں پاکستان کا کردار، اسرائیل کی بے چینی اور کوئٹہ کا دھماکہ: اتفاق یا سازش؟
نمائش میں پاکستان کے تاریخی ورثے، مغلیہ فنِ تعمیر، خوبصورت قدرتی مناظر، میلوں اور ثقافتی روایات کو تصاویر کے ذریعے اجاگر کیا گیا ہے۔ نمائش کا بڑا حصہ مغلیہ دور کی تاریخی عمارتوں پر مشتمل ہے جن میں بادشاہی مسجد، شالامار باغ، مسجد وزیر خان، مقبرہ جہانگیر، ہرن مینار اور چوبرجی شامل ہیں۔
نمائش میں معروف فوٹوگرافر یاسر نثار کی تصاویر کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن اسٹڈیز اور یونیورسٹی آف لاہور کے اسکول آف کری ایٹو آرٹس کے 18 طلبہ و طالبات کے فن پارے بھی شامل کیے گئے ہیں، جن کی رہنمائی بصری صحافت کے استاد آغا رضوان علی نے کی۔
نمائش میں شامل طلبہ و طالبات میں ماہ نور اشرف وٹو، ملائکہ رؤف، عفان اسد، محمد حسن، نورین عاصم، آغا فہد علی، ارمان ندیم، تحریم فاطمہ، شاہنیلا، توقیر ناصر، زوہا اشتیاق، محمد احمد، اسد علی، ام حبیبہ، مومن علی، مہرین فرید، لائبہ عمر اور احمد جمیل شامل ہیں۔
تقریبِ افتتاح رومانیہ میں پاکستان کے سفیر الیاس محمود نظامی اور بوزاؤ کاؤنٹی میوزیم کے جنرل منیجر ڈینیئل بولوکن نے مشترکہ طور پر کی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا دوٹوک مؤقف، “خاتون کو ہراساں کرنے والا نہیں بچے گا”
اپنے خطاب میں سفیر الیاس نظامی نے کہا کہ ثقافتی تبادلے پاکستان اور رومانیہ کے تعلقات کا اہم حصہ ہیں، جبکہ یہ نمائش دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے کی ایک مثبت کوشش ہے۔
نمائش کے پہلے روز سینکڑوں افراد نے شرکت کی جبکہ آنے والے دنوں میں مزید بڑی تعداد میں شائقین کی آمد متوقع ہے۔










