آج کی صبح کوئٹہ میں خون سے رنگی ہوئی تھی۔ کوئٹہ کے قریب ریلوے ٹریک کے پاس ایک خودکش دھماکے میں متعدد مقامی لوگ شہید اور زخمی ہوئے۔ بی ایل اے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے منظم کمانڈو آپریشن قرار دیا۔
لیکن یہ دھماکہ محض واردات نہیں تھی۔ اس کا وقت، اس کا ہدف اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر اٹھنے والی مخصوص آوازیں، یہ سب مل کر ایک بڑی تصویر بناتے ہیں جسے سمجھنا ضروری ہے۔
پاکستان: عالمی سفارت کاری کا نیا محور
گزشتہ کئی ہفتوں میں پاکستان نے وہ کارنامہ سرانجام دیا ہے جو دنیا کی بڑی طاقتیں نہ کر سکیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 8 اپریل کو اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران ایک مشروط جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں جس کے دوران ایک دیرپا معاہدے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔
11 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ وفود 1979 کے بعد پہلی بار ایک ہی میز پر آ کر بیٹھے۔ یہ وہ کام تھا جسے ناممکن سمجھا جاتا تھا لیکن پاکستان نے اسے ممکن کر دکھایا۔
امریکہ اور ایران دونوں کے بیانات میں ایک مشترک بات تھی، پاکستان کے مرکزی کردار کا اعتراف کہ اسلام آباد نے ان دو باہم بے اعتماد اقوام کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔
دنیا نے کیا کہا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی کوششوں کو کھلے دل سے سراہا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ‘پاکستانی بہت اچھے ہیں۔ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم دونوں بالکل شاندار رہے۔’
7 مئی کو ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ‘پاکستان زبردست رہا ہے۔ اور اس کے رہنما بھی زبردست رہے ہیں، فیلڈ مارشل بھی اور وزیراعظم بھی۔’ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی پاکستان کے کردار کا باقاعدہ اعتراف کیا۔ عراقچی نے اپنے پیغام میں لکھا ‘پاکستان نے حال ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا ہے اور ہمارے لیے ضروری تھا کہ تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کریں۔’
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ سعودی ولی عہد نے وزیراعظم شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امن عمل میں تعمیری کردار کو سراہا۔ عرب نیوز میں شائع ہونے والے تجزیے میں سعودی موقف یوں بیان کیا گیا ‘سعودی عرب، پاکستان کے ساتھ مل کر اس جنگ کی آگ کو بجھا رہا ہے، مزید کشیدگی کو روک رہا ہے اور امن کے علمبرداروں کو امید دے رہا ہے۔’
کونسل آن فارن ریلیشنز (CFR) نے اپنے تجزیے میں لکھا ‘پاکستان ایک ناممکن لیکن ناگزیر ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ یوں پاکستاناچانک ایک بڑا عالمی کھلاڑی بن گیا۔’ الجزیرہ سینٹر فار سٹڈیز نے لکھا ‘پاکستان خود کو ایک متوازن اور فعال ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے. یہ اس ملک کے لیے بالکل مختلف تصویر ہے جس پر ایک دہائی قبل وہی امریکی صدر ‘جھوٹ اور فریب’ کا الزام لگاتے تھے۔’ برطانوی پارلیمنٹ کی لائبریری نے اپنی سرکاری رپورٹ میں درج کیا ‘تمام مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں. آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری و میزائل پروگرام، تعمیر نو، پابندیوں میں نرمی، اور طویل مدتی امن معاہدے جیسے امور زیر بحث ہیں۔’
اسرائیل کی بے چینی اور بی ایل اے کا کھیل
یہ وہ کردار ہت جو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نہیں چاہتے تھے۔ غزہ، یمن اور ایران میں انہوں نے بار بار وعدے کیے لیکن محض فوجی طاقت سے اسرائیلی سلامتی کا دیرپا حل فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ اب جب پاکستان نے سفارتی میز پر وہ کامیابی حاصل کی جو اسرائیل کا پورا عسکری نظام نہ کر سکا تو بے چینی فطری ہے۔
جون 2025 میں اسرائیل کے سابق نائب وزیر دفاع میئر مصری نے صراحت سے لکھا ‘ایران کے بعد ہم پاکستان کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔’ اسرائیلی حلقوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس کا راستہ بلوچستان سے گزرتا ہے اور بھارتی خفیہ ادارے "را” کے ساتھ تعاون(جسے بی ایل اے جیسی تنظیموں کو چلانے کا وسیع تجربہ ہے) اس کا منطقی ذریعہ ہے۔
12 جون 2025 کو واشنگٹن میں اسرائیل سے وابستہ تھنک ٹینک MEMRI نے بلوچستان سٹڈیز پروجیکٹ قائم کیا اور یہ قدم ایران پر اسرائیلی حملوں کے عین اسی دن اٹھایا گیا۔ اس پروجیکٹ میں میر یار بلوچ کو خصوصی مشیر بنایا گیا۔ وہی شخص جس نے بھارتی آپریشن سندور کے موقع پر مودی کو خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کی آزادی کا یکطرفہ اعلان کیا۔
عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق میر یار بلوچ کی پوسٹس تقریباً صرف بھارتی اکاؤنٹس ری ٹوئیٹ کرتے ہیں اور ان کی پوری سرگرمی بھارتی میڈیا پر منحصر ہے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ کسی بڑے میڈیا یا خفیہ آپریشن کا حصہ ہے۔ اور بی ایل اے کی اصل حیثیت کیا ہے؟ امریکی محکمہ خارجہ نے خود اگست 2025 میں بی ایل اے کو باقاعدہ غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔
سوال یہ ہے!
پاکستان جب بھی سفارتی کامیابی کے قریب پہنچتا ہے، کوئٹہ یا پشاور کی زمین لرز اٹھتی ہے۔ یہ اتفاق نہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ پاکستان کی توجہ اندرونی بحران کی طرف موڑنا، عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا، اور ثالثی کا یہ تاریخی کردار چھین لینا، بھارت اور اسرائیلی جیسی رجیم کا خواب ہے۔
پھر سوشل میڈیا پر مخصوص گروہ فوری طور پر "ریاست ناکام ہوگئی” کا راگ الاپنے لگتے ہیں جیسے دھماکے کا پہلے سے انتظار تھا۔ لیکن حقائق اس بیانیے کو رد کرتے ہیں۔ جس ریاست کو ناکام کہا جا رہا ہے، اسے آج دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا صدر ‘بالکل شاندار’ کہہ رہا ہے۔ جس ملک کو ‘تنہا’ ثابت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، اس کی میز پر ایران اور امریکہ کے وفود ایک ساتھ بیٹھے ہیں۔
کوئٹہ ہو یا پاکستان کا دوسرا خطہ، یہاں شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ لیکن قوم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب کسی ملک کا قد بڑھتا ہے تو اسے چھوٹا کرنے والے بھی سرگرم ہو جاتے ہیں۔ آج پاکستان صرف ایک ملک نہیں رہا۔ یہ ایک ضروری پل بن چکا ہے جسے توڑنے کی کوشش مسلسل جاری ہے۔
ان کوششوں کا جواب نہ مایوسی سے دیا جائے، نہ انتشار سے بلکہ اسی عزم اور قومی یکجہتی سے جو اس قوم کی اصل پہچان ہے۔
کوئٹہ دھماکے کے بعد انڈین سپانسرڈ ایکس اکاونٹس جھوٹ پھیلاتے ہوئے پکڑے گئے: عالمی امن میں پاکستان کا کردار، اسرائیل کی بے چینی اور کوئٹہ کا دھماکہ: اتفاق یا سازش؟











2 پر “عالمی امن میں پاکستان کا کردار، اسرائیل کی بے چینی اور کوئٹہ کا دھماکہ: اتفاق یا سازش؟” جوابات
[…] […]
[…] […]