لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کیخلاف دائر توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے جواب جمع کرانے کی آخری مہلت 10 نومبر تک دے دی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ڈی آئی جی ناصر عزیز کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالتی حکم پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل خالد گھمن نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے مطابق تمام متعلقہ افسران پیش ہو چکے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب تمام افسران موجود ہیں تو کیوں نہ ان سب کیخلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر دی جائے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے کچھ وقت دیا جائے۔عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو جواب کے لیے 10 نومبر تک مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ان کے لیے آخری موقع ہے اور اسے ذہن میں رکھا جائے۔
درخواست گزار کا موقف
درخواست گزار ڈی آئی جی ناصر عزیز کا موقف ہے کہ فیڈرل سروس ٹربیونل نے ان کی سنیارٹی سے متعلق فیصلہ دیا تھا، تاہم اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا۔ درخواست گزار کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہائیکورٹ میں بھی فیصلے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی تھی، اس کے باوجود عمل نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:سیشن کورٹ میں کمرہ عدالت کے اندر ملزمان پر تشدد، ایک ملزم بے ہوش
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کر کے توہینِ عدالت کی گئی ہے، لہٰذا عدالت سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کیخلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کرے۔











