لاہور(پنجاب پوسٹ) پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت اور ریاستی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں بے بس نظر آ رہی ہیں اور شہریوں کو انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
گرفتاریوں پر اعتراض
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور کو پہلے گرفتار کیا گیا اور بعد میں نظربندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ڈرائیور، جو مزدوری پر تھا، اسے بھی گرفتار کر لیا گیا۔
عدالتوں کی بے بسی
انہوں نے کہا کہ آج وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ عدالتیں ملاقات تک نہیں کرا سکتیں۔ ان کے مطابق کسی بھی شہری کو کسی بھی وقت اٹھایا جا سکتا ہے اور عدالتیں انصاف دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں آزاد عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں، تاہم آج عدالتیں بے بس دکھائی دیتی ہیں۔
کالے قوانین کا استعمال
سلمان اکرم راجہ نے الزام لگایا کہ انگریز کے بنائے ہوئے کالے قوانین کو استعمال کر کے شہری آزادیاں سلب کی جا رہی ہیں۔
سوشل میڈیا اور احتجاج
سوشل میڈیا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی احتجاج جاری رکھے گی اور عوام کو آگاہ کرتی رہے گی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جب لوگ باہر نکلتے ہیں تو ان پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔
آئین اور عوامی حقوق
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔ مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر مسائل اٹھانا ہر سیاسی جماعت کا فرض ہے۔ ان کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی انہی عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جیل میں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بطور سیاسی جماعت عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا پی ٹی آئی کا فرض ہے اور ہر سیاسی جماعت کو آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔











