کسٹمز حکام کا وارنٹ کے بغیر چھاپوں کا معاملہ ، لاہور ہائیکورٹ نے اصول واضح کردئیے ،عدالتی حکم میں کیا کہا گیا ہے ؟

لاہور (پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے کسٹمز حکام کی جانب سے بغیر سرچ وارنٹ کے کیے جانے والے چھاپوں اور تلاشی کے اختیار سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قانونی اصول واضح کر دیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ کے تحت وارنٹ کے بغیر تلاشی کا اختیار غیر محدود نہیں بلکہ مخصوص قانونی شرائط سے مشروط ہے، اور ان شرائط کو پورا کیے بغیر کی گئی کارروائی غیر قانونی تصور ہو گی۔ عدالت نے یہ حکم کسٹمز کے 7300 کلو ایلومینیم برآمدگی کیس میں کسٹمز کی اپیل خارج کرتے ہوئے جاری کیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ محض یہ کہہ دینا کہ عدالتیں بند تھیں، وارنٹ کے بغیر تلاشی کا جواز نہیں بن سکتا۔ فیصلے کے مطابق اگر کسٹمز افسران وارنٹ حاصل کیے بغیر چھاپہ مارنا چاہتے ہیں تو انہیں قانون میں دی گئی شرائط پر پورا اترنا ہو گا۔ عدالت بند ہونے کو بنیاد بنا کر قانونی تقاضوں سے بچنے کی گنجائش نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ وارنٹ کے بغیر چھاپے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ سامان کے منتقل کیے جانے یا ہٹائے جانے کا معقول خدشہ موجود تھا۔ یعنی اگر یہ اندیشہ ہو کہ وارنٹ کے حصول تک ممنوعہ یا مشتبہ سامان کہیں اور منتقل کر دیا جائے گا، تو ہی بلا وارنٹ تلاشی کا اختیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ خدشہ محض قیاس پر نہیں بلکہ ٹھوس اور معقول بنیادوں پر مبنی ہونا چاہیے۔

زیر سماعت کیس میں ایلومینیم کے سامان کے حوالے سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسے برتنوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ محض سامان کو برتنوں میں تبدیل کیے جانے کا امکان بلا وارنٹ چھاپے کا قانونی جواز فراہم نہیں کرتا۔ اس نوعیت کا امکان معقول خدشے کے زمرے میں نہیں آتا جس کی بنیاد پر وارنٹ کی شرط نظرانداز کی جا سکے۔

عدالت نے حکم دیا کہ کسٹمز ایکٹ کے تحت تلاشی کی وجوہات کو تحریری طور پر ریکارڈ کرنا لازمی ہے۔ مزید یہ کہ ان تحریری وجوہات کی نقل متعلقہ افراد کو فراہم کرنا بھی قانونی تقاضا ہے۔ اس شرط کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور اختیارات کے من مانے استعمال کو روکنا ہے۔

فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اسسٹنٹ کلکٹر سے کم عہدے کا کوئی افسر وارنٹ کے بغیر تلاشی لینے کا مجاز نہیں۔ یہ اختیار صرف مخصوص رینک کے افسران کو حاصل ہے، اور کم درجے کے اہلکار اس اختیار کو استعمال نہیں کر سکتے۔

عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ جب تک مقررہ قانونی تقاضے پورے نہ کیے جائیں، بلا وارنٹ چھاپہ اور تلاشی کا اختیار استعمال کرنا غیر قانونی ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے 7300 کلو ایلومینیم کی برآمدگی کے کیس میں کسٹمز کی اپیل خارج کر دی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے