لاہور (پنجاب پوسٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے کاشتکاروں کے لیے اپنا کسان بینک قائم کرنے، ایک کروڑ روپے تک قرض پر صفر شرح سود اور کسان کارڈ کے تحت فی ایکڑ قرض کی رقم میں اضافے سمیت متعدد اہم اعلانات کیے ہیں۔ انہوں نے گندم کی 4500 روپے فی من امدادی قیمت پر خریداری یقینی بنانے، زیتون کی کاشت کے لیے خصوصی پیکج اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے جدید سہولیات فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے صوبے بھر کے چھوٹے، درمیانے اور بڑے کاشتکاروں کے نمائندوں نے ملاقات کی، جس میں زرعی شعبے کو درپیش مسائل، کاشتکاروں کی تجاویز اور حکومت کے آئندہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر کاشتکاروں نے کسان کارڈ کے اجرا کو سراہتے ہوئے اسے زراعت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔
کاشتکاروں کے لیے اپنا کسان بینک
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں کاشتکاروں کے لیے پہلا اپنا کسان بینک قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ روپے تک قرض پر صفر شرح سود ہوگی، جبکہ تین کروڑ روپے کے قرض پر دو فیصد اور پانچ کروڑ روپے کے قرض پر پانچ فیصد شرح سود مقرر کی جائے گی۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی خریداری میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ کھاد کے نرخ بڑھنے کے باعث کسان کارڈ کے تحت فی ایکڑ قرض میں 3500 روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد قرض کی رقم 30 ہزار روپے سے بڑھا کر 33 ہزار 500 روپے فی ایکڑ کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا منڈی بہاؤالدین کا دورہ، اربوں روپے کے منصوبوں کا افتتاح
وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب میں 10 لاکھ سے زائد چھوٹے کاشتکار کسان کارڈ سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ کاشتکاروں کو مجموعی طور پر 17 ارب روپے کے سبسڈی قرض فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی جانب سے تقریباً 100 فیصد قرضوں کی واپسی ہوئی ہے، جو حکومت اور کاشتکاروں کے درمیان اعتماد کا مظہر ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے قرضوں کی فراہمی میں میرٹ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
گندم کی خریداری اور امدادی قیمت
مریم نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں گندم کی 4500 روپے فی من امدادی قیمت پر خریداری یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ گندم کی خریداری کا منصوبہ جلد باقاعدہ طور پر شروع کیا جائے گا، جبکہ ڈیجیٹل پراسیسنگ کے لیے آن لائن پورٹل بھی متعارف کرایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اپنا کھیت، اپنا روزگار پروگرام کے تحت کاشتکاروں کو گندم کی بوائی کے لیے مراعات اور مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد فصلوں کی پیداوار بڑھانا اور اضافی پیداوار کو پاستا سمیت دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی صورت میں برآمد کرنا ہے تاکہ کاشتکاروں کو بہتر معاوضہ مل سکے۔
زرعی مشینری اور ٹریکٹرز پر سبسڈی
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری کرائے پر فراہم کرنے کے لیے میکانائزیشن پروگرام شروع کر چکی ہے۔ ان کے مطابق 25 ہزار ٹریکٹرز سبسڈی پر فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 50 ہزار ٹریکٹرز سبسڈی پر دینے کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہائی ٹیک میکانائزیشن کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور ہیپی سیڈر سمیت جدید زرعی آلات کی فراہمی پر کام جاری ہے۔ زرعی مشینری کی طلب میں اضافے سے مقامی سطح پر فیکٹریاں قائم ہو رہی ہیں اور پاکستانی کمپنیاں 30 ہزار ٹریکٹرز تیار کر رہی ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ کاشتکاروں کی معاونت کے لیے 1500 ایگریکلچر انٹرنز فیلڈ میں کام کر رہے ہیں، جنہیں 70 ہزار روپے ماہانہ معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں زرعی ترقی کے لیے فنانسنگ کا حجم 11 سال میں تین ارب روپے سے بڑھا کر 400 ارب روپے تک پہنچایا گیا ہے۔
پانی کی فراہمی اور نہروں کی صفائی
وزیراعلیٰ نے پنجاب بھر میں پانی چوری کے خلاف مہم جاری رکھنے، نہروں کی بھل صفائی اور کھالوں کو پختہ کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسان چھوٹا ہو یا بڑا، غریب ہو یا بااثر، ہر کاشتکار کے کھیت تک پانی پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ان کے مطابق پانی ضائع ہونے سے بچانے کے لیے کھالوں کو پختہ کیا جائے گا، جبکہ پوٹھوہار کے علاقے میں 400 منی ڈیم تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ کاشتکاروں کو ہائی پاور ایریگیشن سسٹم بھی فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
زیتون کی کاشت اور زرعی پروسیسنگ پارکس
مریم نواز شریف نے زیتون کی کاشت کے فروغ کے لیے خصوصی پیکج اور سبسڈی فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں زیتون کی پیداوار میں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ کاشتکار بلال خان نے بھی کہا کہ پنجاب کا زیتون معیار کے لحاظ سے بہترین ہے اور آئندہ دو سے تین سال میں اسے برآمد کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سرگودھا، بھکر، خانیوال اور اوکاڑہ میں ایگرو پروسیسنگ پارکس قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان مراکز میں آم، کینو، مالٹا، آلو اور دیگر زرعی اجناس کی گریڈنگ، پراسیسنگ اور اسٹوریج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ کاشتکاروں کو فصلوں کی بہتر قیمت مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی ضرورت سے زائد زرعی پیداوار کو ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمد کرنا زیادہ منافع کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت صنعتی اور زرعی ترقی کے نئے منصوبے پر بھی عمل درآمد کر رہی ہے۔
موبائل لیبارٹریز اور مویشیوں کی فربہی
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بتایا کہ مٹی کی زرخیزی اور پانی کے معیار کی جانچ کے لیے موبائل سائل اینڈ واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریز متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں چار لاکھ جانوروں کی فربہی کی گئی، جبکہ رواں سال مزید چھ لاکھ مویشی تیار کرنے کا ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافے، فصلوں کی بہتر قیمت اور برآمدات کے فروغ کے لیے کاشتکاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق زرعی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات کا مقصد کسان کی آمدن بڑھانا اور پنجاب کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
سموگ کے خاتمے کے لیے کاشتکاروں سے اپیل
وزیراعلیٰ نے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ وہ سموگ کے خاتمے کے لیے فصلوں کی باقیات جلانے سے گریز کریں اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے حکومت سے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے ساتھ ماحول کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا پہیہ پنجاب کے کاشتکاروں کے بغیر نہیں چل سکتا اور صوبہ پنجاب ملک کی غذائی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد پورا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کھاد کی بلیک مارکیٹنگ اور بلاجواز قیمتوں میں اضافے کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے اور کاشتکاروں کو درمیانی کردار کے استحصال سے بچانے کے لیے کسان کارڈ متعارف کرایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹھیکے اور لیز پر زمین کاشت کرنے والے کسانوں کو بھی کسان کارڈ منصوبے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے دباؤ کے باوجود کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے زرعی انکم ٹیکس کے معاملے پر مزاحمت کی۔
کاشتکاروں کی وزیراعلیٰ سے ملاقات اور اظہارِ تشکر
ملاقات کے دوران کاشتکاروں نے کسان کارڈ کے اجرا، گرین ٹریکٹر اسکیم اور زراعت کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہا۔ وزیر زراعت عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف زراعت کا بجٹ 15 ارب روپے سے بڑھا کر 400 ارب روپے تک لے گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ ہارویسٹر اسمبلی پلانٹ اور ٹریکٹر مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ فصلوں کا بہتر معاوضہ دلانے کے لیے ویلیو ایڈیشن منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔
کاشتکار حسن رضا نے گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے مقرر کرنے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں کاشتکاروں کے لیے امید کی کرن قرار دیا۔ کاشتکار عامر حیات بندیشہ نے کسان کارڈ اور الیکٹرو بس جیسے منصوبوں پر وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا، جبکہ کاشتکار سجاد علی نے پانی چوری کے خلاف مہم کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کاشتکاروں کی تجاویز اور سفارشات پر بتدریج عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر انہوں نے کاشتکاروں کے ساتھ اپنی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا، جبکہ کاشتکاروں نے انہیں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔ وزیر زراعت عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے اپنی سالگرہ کا دن کاشتکاروں کے نام کرنے پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کاشتکاروں کی معاونت جاری رکھے گی اور زرعی پیداوار بڑھانے، پانی کی منصفانہ تقسیم، جدید مشینری کی فراہمی اور فصلوں کی برآمدات کے ذریعے کسانوں کی آمدن میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔











