لاہور (پنجاب پوسٹ) خاموش لبوں کے پیچھے چھپی اپنوں سے ملنے کی کہانی 10 سال بعد مکمل ہوگئی، پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے ورچوئل سنٹر فار چائلڈ سیفٹی نے جدید فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے قوتِ سماعت و گویائی سے محروم عبدالقدیر کے اہلِ خانہ کا سراغ لگا لیا۔ سیف سٹی کے ’میرا پیارا‘ سسٹم کی بدولت طویل عرصے سے بچھڑے خاندان کا رابطہ بحال ہوگیا۔
ترجمان پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق عبدالقدیر 2016 میں اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ کراچی آیا تھا، جہاں وہ کورنگی کے علاقے سے لاپتہ ہوگیا۔ گمشدگی کے وقت اس کی عمر 13 سال تھی۔ قوتِ سماعت و گویائی سے محروم ہونے کے باعث وہ اپنے گھر کا پتہ بتانے سے بھی قاصر تھا۔
2019 میں عبدالقدیر خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک مقامی خاندان کو ملا، جس نے اس کی دیکھ بھال شروع کردی۔ عبدالقدیر کے اہلِ خانہ کو تلاش کرنے کے لیے مقامی خاندان نے سیف سٹی کے ’میرا پیارا‘ ٹیم سے رابطہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 7 سال سے جنسی استحصال کے مقدمے میں مطلوب ملزم ملتان ائرپورٹ سے گرفتار
سیف سٹی ٹیم نے عبدالقدیر کی تصاویر اور دیگر معلومات سسٹم میں درج کرکے تلاش شروع کی۔ جدید فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی نے عبدالقدیر کی تصویر کا پرانے گمشدگی ریکارڈ سے موازنہ کیا تو مماثلت سامنے آگئی۔ سسٹم میں 2016 میں کراچی کے علاقے کورنگی سے لاپتہ ہونے والے عبدالقدیر ولد عبدالکبیر کا ریکارڈ موجود تھا۔

دلچسپ امر یہ تھا کہ عبدالقدیر کے والد بھی اپنے لاپتہ بیٹے کی تلاش کے لیے پہلے ہی سیف سٹی کے ’میرا پیارا‘ ٹیم سے رابطہ کرچکے تھے۔ سیف سٹی ٹیم نے شناخت کی تصدیق کے لیے عبدالقدیر کی اہلِ خانہ سے ویڈیو کال پر بات کروائی، جہاں عبدالقدیر نے اپنے گھر والوں کو پہچان لیا۔ یوں 10 سال سے بچھڑے خاندان کا رابطہ بحال ہوگیا۔
ترجمان پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق ’میرا پیارا‘ گمشدہ بچوں، بزرگوں اور خصوصی افراد کو ان کے پیاروں سے ملوانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ شہری گمشدہ یا لاوارث افراد کی اطلاع دینے کے لیے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کرکے 3 دبائیں۔










