لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے قرآن پاک پر خصوصی حلف سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا وہ حکم کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے تحت فریق کو قرآن پاک پر حلف دینے کا پابند کیا گیا تھا۔ عدالت نے سول نماتحت عدالتظرثانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا 27 ستمبر 2023 کا متنازع حکم منسوخ کردیا اور متعلقہ عدالت کو اپیل پر قانون کے مطابق میرٹ پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔
جسٹس انوار حسین نے سول ریویژن نمبر 759/2023 پر 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ قرآن پاک پر خصوصی حلف کے لیے فریقین کی جانب سے پیشکش کی اصل شرائط کے مطابق رضامندی ضروری ہے۔ اگر کسی پیشکش کو قانون کے مطابق قبول کرلیا جائے تو ہی اس کی شرائط فریقین پر لازم ہوسکتی ہیں۔
تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے سول تنازعے کو قرآن پاک پر حلف کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کی تھی، جس میں جھوٹا حلف دینے کی صورت میں طلاق سے متعلق شرط بھی شامل تھی۔ بعد ازاں دوسرے فریق نے قرآن پاک پر حلف دینے پر آمادگی ظاہر کی، تاہم اس نے طلاق کی شرط قبول نہیں کی۔ اس کے بعد درخواست گزار نے بھی اپنی پیشکش واپس لینے کی درخواست دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: غیر ملکی خاتون ڈیانا سے اجتماعی زیادتی کے ملزم کے شاملِ تفتیش نہ ہونے کا معاملہ
عدالت کے مطابق ماتحت عدالت نے طلاق کی شرط کو پبلک پالیسی کے خلاف قرار دے کر مسترد کردیا تھا، تاہم قرآن پاک پر حلف لینے کا حکم برقرار رکھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کسی پیشکش کو قانونی طور پر پابند بنانے کے لیے اسے اصل شرائط کے مطابق قبول کرنا ضروری ہے۔ کسی اہم شرط کو مسترد کرکے پیشکش کے باقی حصے کو دوسرے فریق کی رضامندی کے بغیر اس پر لازم نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ طلاق سے متعلق شرط حلف دینے والے کی اہلیہ جیسے تیسرے فریق کے حقوق کو متاثر کرتی تھی، جبکہ یہ شرط حلف سے متعلق قانون کی دفعہ 8 کے تقاضوں کے بھی منافی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ ثابت نہیں ہوا کہ پیشکش واپس لینے سے پہلے دوسرے فریق کی جانب سے حلف دینے کی غیر مشروط آمادگی قانونی طور پر مکمل ہوچکی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ نے سول نظرثانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا متنازع حکم منسوخ کردیا اور ہدایت کی کہ اپیل پر قانون کے مطابق میرٹ پر فیصلہ کیا جائے۔











