ملزمان کا کال ڈیٹا نکلوانے کیلئے قانون میں تبدیلی کا فیصلہ، اب پولیس اہلکاروں کو سی ڈی آر کیلئے کیا طریقہ کار اختیار کرنا پڑے گا؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) آئی جی پنجاب کی ہدایات پر شہریوں کے فونز کے کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) کے غلط استعمال کی روک تھام اور تفتیشی عمل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب نے سی ڈی آر کے حصول اور استعمال سے متعلق ترمیمی اسٹینڈنگ آرڈر جاری کر دیا ہے۔

جاری کردہ مراسلے کے مطابق کال ڈیٹا ریکارڈ کے حصول کے لیے اب باقاعدہ طریقہ کار اپنانا ہوگا۔ متعلقہ تھانیدار مقدمے کی نوعیت اور تفتیشی ضرورت کا جائزہ لینے کے بعد درخواست دے گا، جبکہ تفتیشی افسر کے لیے مقدمہ نمبر، متعلقہ دفعات اور سی ڈی آر حاصل کرنے کی ٹھوس وجوہات درج کرنا لازمی ہوگا۔

درخواست پر سرکل افسر کے دستخط کے بعد اسے ضلعی پولیس سربراہ کو بھجوایا جائے گا، جو تصدیق کے بعد منظوری دے گا۔ سی ڈی آر کے حصول کے لیے ہر ضلع میں علیحدہ دفتر اور رجسٹر قائم کیا جائے گا، جبکہ مجاز افسر ضلعی پولیس سربراہ ہوگا۔ متعلقہ دفتر کا انچارج کم از کم سب انسپکٹر کے عہدے کا افسر مقرر کیا جائے گا۔

مراسلے کے مطابق سی ڈی آر کے حصول کے لیے مخصوص ای میل استعمال کی جائے گی اور اس کا پاس ورڈ ہر ماہ تبدیل کرنا لازمی ہوگا۔ ریکارڈ موصول ہونے کے بعد متعلقہ تھانیدار اسے تفتیشی افسر کے حوالے کرے گا، جو اسے تفتیشی ضمنی کا حصہ بنائے گا۔ درخواست اور مقدمے کے کاغذات کی نقول بھی ریکارڈ کے ساتھ منسلک کرنا ہوں گی۔

نئے طریقہ کار کے تحت سی ڈی آر کے استعمال اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج کی باقاعدہ نگرانی بھی کی جائے گی۔ ماہانہ کارکردگی رپورٹ میں بتایا جائے گا کہ کال ڈیٹا ریکارڈ کی مدد سے کتنے مقدمات ٹریس ہوئے، کتنے ملزمان اور اشتہاری گرفتار کیے گئے اور کتنی ریکوری ہوئی۔

مراسلے کے مطابق ریجنل پولیس افسر (آر پی او) ہر ماہ تمام اضلاع میں سی ڈی آر کے استعمال کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن کو بھجوائے گا، جبکہ ایڈیشنل آئی جی ہر چار ماہ بعد اضلاع کا آڈٹ کرے گا۔ اس مقصد کے لیے ہر ضلع میں آڈٹ ٹیم بھی تشکیل دی جائے گی۔

حکام کے مطابق سی ڈی آر کے غلط استعمال یا ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی، جبکہ یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ تفتیشی افسران کو ضروری ریکارڈ کے حصول میں غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے طریقہ کار کے باعث بعض تفتیشی افسران کو کارروائی کے دوران مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کسی خطرناک یا اشتہاری ملزم کی گرفتاری کے لیے روانگی کے بعد لوکیشن حاصل کرنے کی ضرورت پیش آنے پر تفتیشی افسر کو پہلے تفتیشی ضمنی مکمل کرنے کے لیے واپس آنا پڑ سکتا ہے، جس سے کارروائی میں تاخیر کا خدشہ ہے۔

پنجاب پولیس کے نئے ضابطہ کار کا مقصد کال ڈیٹا ریکارڈ کے حصول کو قواعد و ضوابط کا پابند بنانا، اس کے غلط استعمال کی روک تھام اور تفتیشی عمل میں جواب دہی کو یقینی بنانا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے