پاکستان میں گندم کی پیداوار بڑھانے کی تیاری، 2027 سے ہائیبرڈ گندم کی کمرشل کاشت کا امکان

لاہور (پنجاب پوسٹ) پاکستان میں گندم کی پیداوار بڑھانے اور ہائیبرڈ بیج کی تیاری کو کمرشل بنیادوں پر فروغ دینے کے لیے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور گارڈ ایگریکلچر گروپ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی کے مطابق پاکستان میں 2027 سے ہائیبرڈ گندم کی کمرشل کاشت ممکن ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد گزشتہ 15 برس سے آسٹریلیا کے تعاون سے ہائیبرڈ گندم پر تحقیق کر رہی ہے، جبکہ اس ٹیکنالوجی کی ابتدا سڈنی یونیورسٹی سے ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ 11 برس کی تحقیق کے بعد پاکستان میں بھی اس ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے پیش رفت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سائنسدان ہائیبرڈ گندم کی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انڈسٹری، اکیڈمیا اور حکومت مل کر کام کریں تو زراعت کے شعبے میں ترقی ممکن ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں 2027 سے ہائیبرڈ گندم کی کمرشل کاشت شروع کرنے کا امکان ہے، جبکہ بھارت میں 2030 سے پہلے اس کی کاشت ممکن نہیں ہوگی۔

دوسری جانب شہزاد علی ملک نے کہا کہ کپاس کی بحالی کے لیے لاہور چیمبر کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں تفصیلی گفتگو کی گئی ہے اور اس حوالے سے سفارشات مرتب کرکے وفاقی حکومت کو بھجوائی جائیں گی۔

شہزاد علی ملک کے مطابق پاکستان کی صنعتی پالیسی کا انحصار کپاس کی پیداوار پر ہے اور کپاس کی ویلیو ایڈیشن سے اربوں روپے حاصل ہو رہے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد کا روزگار بھی اس فصل سے وابستہ ہے۔ ملکی صنعت کی سالانہ ضرورت 15 ملین بیلز ہے، تاہم اس وقت کپاس کی پیداوار تقریباً 6 ملین بیلز تک رہ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائیبرڈ گندم کی ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کرنے اور اس کے بیج کی تیاری کو کمرشل بنیادوں پر فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے