گوجرانوالہ ( پنجاب پوسٹ ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے خواتین کے خلاف تشدد اور جرائم کے خاتمے کے لیے مقرر کردہ ریڈ لائن کے باوجود گوجرانوالہ میں ایک اور خاتون کو مبینہ طور پر تیز دھار آلے کے وار کرکے قتل کردیا گیا۔ ایک ماہ کے دوران خواتین سے متعلق سنگین نوعیت کا یہ آٹھواں واقعہ سامنے آیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ گوجرانوالہ کے علاقے راہوالی میں پیش آیا، جہاں ایک خاتون کو مبینہ طور پر معمولی جھگڑے کے دوران تیز دھار آلے سے حملہ کرکے قتل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : راولپنڈی کی حنا جاوید کا بہیمانہ قتل، حنا پرویز بٹ شدید غصے میں، کیا اعلان کیا؟
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد مقتولہ کے اہل خانہ کی مدعیت میں دو نندوں اور بہنوئی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ تینوں نامزد ملزمان کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی تقریباً 10 سال قبل شادی ہوئی تھی جبکہ اس کا شوہر بیرون ملک مقیم ہے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کرنے کے بعد لاش کو قانونی کارروائی کے لیے منتقل کیا گیا۔
مدعی مقدمہ کے مطابق مقتولہ اور ملزمان کے درمیان معمولی نوعیت کا جھگڑا ہوا، جو شدت اختیار کرگیا، اور مبینہ طور پر ملزمان نے تیز دھار آلے سے حملہ کرکے خاتون کو قتل کردیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور قتل کی اصل وجوہات، وقوعہ کے حالات اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کے مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے واقعات کے تناظر میں یہ واقعہ ایک بار پھر پنجاب میں خواتین کے تحفظ اور گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر سوالات اٹھا رہا ہے۔













