سانحہ پمز ، تحریک انصاف کا تاریک کردار،آیت نور پر مجرمانہ خاموشی ، پمز پر شعلہ بیانی کیوں؟

سوال اٹھانا بھی حق ہے لیکن خیبرپختونخوا کے ہری پور میں آیت نور نامی بچی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس وقت یہ سب کہاں تھے؟

تحریر ، ادیب یوسفزئی ، صحافی

پمز میں پیش آنے والے واقعہ ایسا سانحہ ہے جس پر ہر صاحب دل کو افسوس ہونا چاہیے۔ 14 نومولود بچوں کا یوں آگ کی نذر ہوجانا پورے نظام پر تمانچہ ہے۔ اس واقعے کے بعد پی ٹی آئی کے شاہد خٹک، فلک ناز چترالی اور سلمان اکرم راجہ وہاں پہنچے۔ بطور خیبرپختونخواہ کے رہائشی میرا سوال ہے کہ کیا آیت نور اس سرزمین کی بیٹی نہیں تھی؟

یہ بھی پڑھیں : پمز کے پھولوں پر سیاسی خار ، لاشیں اور تعفن زدہ گدھ

شاہد خٹک سمیت تحریک انصاف کی قیادت کے اکثر نمائندے پمز کے باہر موجود ہیں۔ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ یہ ان کا سیاسی حق ہے، احتجاج بھی حق ہے، سوال اٹھانا بھی حق ہے لیکن خیبرپختونخوا کے ہری پور میں آیت نور نامی بچی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس وقت یہ سب کہاں تھے؟

آیت نور پندرہ روز تک لاپتہ رہی۔ ایک غریب باپ اپنی بچی کی تلاش میں در در بھٹکتا رہا، ہاتھ جوڑ جوڑ کر مدد کی اپیل کرتا رہا، دہائیاں دیتا رہا۔ پھر پندرہ دن بعد اسی بچی کی لا۔ش ایک کنویں سے برآمد ہوئی۔ ان پندرہ روز کے دوران یہ سب کہاں تھے؟ اب تک ہری پور کے اس غریب باپ کے پاس کون پہنچا ہے؟ یہاں جب آپ کو سیاست کا موقع ملا تو سب دوڑے دوڑے چلے آئے ہیں۔۔ ہری پور واقعے پر آپ کیوں خاموش تھے؟ آپ ہی کی حکومت ہے نا وہاں؟

یہ بھی پڑھیں : سانحہ پمز ہسپتال، بیوروکریسی ناکام، چھوٹے یونٹس اور عوامی نمائندگی ضروری

پمز میں جان سے جانے والے ہر بچے کا دکھ اپنی جگہ ایک قیامت ہے۔ ان کے والدین کے لیے دنیا آج رک گئی ہے۔ ان کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے، ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے اور اگر غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

بتائیں جب آیت نور کے والد آپ کو پکار رہے تھے تو آپ کہاں تھے؟ آیت بھی تو کسی ماں باپ کا جگر کا ٹکڑا تھی۔ اس کے گھر میں بھی ایک ماں نے راتیں جاگ کر گزاری ہوں گی۔ اس کے باپ نے بھی ہر دروازہ کھٹکھٹایا ہوگا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آیت نور کی چیخیں آپ کے اپنے صوبے تک محدود تھیں اس لیے؟ خیبرپختونخوا کے لوگوں کو یہ سوال کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ آخر ان کے صوبے کے بچوں کے لیے سیاسی حساسیت اتنی کم کیوں ہے؟ کیا آپ صرف ایک شخصیت کے گرد گھومتی سیاست ہی کریں گے یا اپنے صوبے کے بارے میں بھی سوچیں گے؟ آخر اپنے ہی صوبے کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں؟

بشکریہ : ادیب یوسفزئی ، فیس بک پوسٹ

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے