بچوں کا ماں کے ساتھ جانے سے انکار، احاطہ عدالت میں چیخ و پکار، لاہور ہائیکورٹ میں کیا ہوا؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ میں کمسن بچوں کی حوالگی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، جس کے دوران پولیس نے دونوں بچوں کو والد سمیت عدالت میں پیش کیا۔جسٹس امیر انجم ملک نے سائلہ مسمات عائشہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے شہباز علی ہنجرا ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ شوہر علی احمد نے بچے چھین کر بیوی کو گھر سے نکال دیا۔ وکیل کے مطابق علی احمد محکمہ میں ایس ڈی او کے عہدے پر تعینات ہے۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ کیا میاں بیوی کے درمیان طلاق ہوچکی ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب بچوں کے والد نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی بیوی خود بچے چھوڑ کر میکے چلی گئی، جبکہ بچے بھی ماں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔

بچوں کی حوالگی کے معاملے پر احاطہ عدالت میں صورتحال جذباتی ہوگئی۔ ایک بچے نے ماں کے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور چیخ و پکار کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے بابا کے ساتھ جانا ہے۔”

والد نے عدالت سے استدعا کی کہ بچے کو زبردستی ماں کے ساتھ نہ بھیجا جائے، کیونکہ بچہ ماں کے ساتھ نہیں جانا چاہتا۔ والد نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ بچہ سکول میں پڑھتا ہے اور موجودہ صورتحال کے باعث اس کی تعلیم بھی متاثر ہوگی۔

والد کے مطابق ماں اور اس کا بھائی بچے کو زبردستی اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ وہ بچے کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔

عدالت میں بچوں کی حوالگی کے معاملے پر فریقین کے مؤقف اور بچے کی خواہش بھی سامنے آئی، جس کے باعث سماعت کے دوران احاطہ عدالت میں جذباتی صورتحال پیدا ہوگئی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے