لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہورہائیکورٹ میں خاتون کی جانب سے جواں سالہ بیٹی انعم کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس غلام سرور نہنگ نے پروین بی بی کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس کی جواں سالہ بیٹی انعم کو منشا اور اس کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر اٹھا لیا ہے۔
سماعت کے دوران تھانہ مانگٹانوالہ کے سب انسپکٹر عاشق نے عدالت کو بتایا کہ وہ ایس ایچ او کے ہمراہ لڑکی کی بازیابی کے لیے گئے تھے۔ پولیس کے مطابق مغوی انعم نے بیان دیا ہے کہ اسے اغوا نہیں کیا گیا بلکہ اس نے اپنی مرضی سے پسند کی شادی کی ہے۔؎
عدالت نے پولیس اہلکار سے لڑکی کی عمر کے بارے میں سوال کیا تو سب انسپکٹر عاشق نے جواب دیا کہ انعم کی عمر شاید 25 یا 26 سال ہوگی۔ عدالت نے مفروضوں پر بات کرنے پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مغوی لڑکی کا بیان لیا ہے، اس کی عمر بھی معلوم نہیں؟
دورانِ سماعت سب انسپکٹر کی جانب سے غلط تلفظ کی ادائیگی پر بھی عدالت نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ جسٹس غلام سرور نہنگ نے ریمارکس دیے کہ عدالت آنے سے پہلے ریہرسل کر لیا کریں۔
بعد ازاں پولیس کے بیان کی روشنی میں لاہور ہائیکورٹ نے درخواست نمٹا دی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے پسند کی شادی کی ہے اور اسے اغوا نہیں کیا گیا۔












