پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ، تحقیقات کیلیے پانچ رکنی کمیٹی قائم
تحریر ، نوید بلوچ ، صحافی
جشن عید میلاد النبی ﷺ کیلئے گھر میں ضیافت تیار کر رہا تھا کہ ٹی وی سکرین پر پمز ہسپتال کے سانحے کی خبر دیکھی، تفصیلات آتے گئی اور آنکھوں سے سیل رواں بہتا رہا۔
غلطی کسی کی تھی؟ ذمہ دار کون تھا؟ عملہ موجود کیوں نہیں تھا؟ ریسکیو آپریشن میں تاخیر کیوں ہوئی؟ وارڈ میں عملہ موجود کیوں نہیں تھا؟ ہر پاکستانی یہی سوال پوچھ رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : سانحہ پمز ہسپتال، بیوروکریسی ناکام، چھوٹے یونٹس اور عوامی نمائندگی ضروری
لیکن اسی دوران ایک اور کھیل شروع ہوگیا، ڈی ایس این جیز کے سامنے کیمروں کے سائے تلے سیاستدانوں کی آمد ہوئی۔ الزامات لگے، سیاسی بیان بازی ہوئی، لیکن کسی نے نہیں سوچا کہ پانچ سال بعد جڑواں اولاد ہوئی، وہ بھی جھلس گئی۔ پندرہ سال بعد آباد ہونے والی گود اجڑ گئی۔ لیکن کسی نے ان تیرہ ماؤں کا درد نہیں سنا، اسے تسلی نہیں دی۔ ان کی تشفی کا انتطام نہیں کیا۔
تحریک انصاف کی قیادت لاؤ لشکر سمیت پمز ہسپتال پہنچی، بانی کے علاج کا راگ الاپنا شروع کردیا کہ اس ہسپتال میں انکا علاج کیسے ہوگا؟ یعنی ایک بیانیہ بنانا شروع کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :مری ایکسپریس وے حادثہ کیس: مفرور ڈرائیور گرفتار، اہم پیش رفت سامنے آگئی
پیپلز پارٹی کا لاؤ لشکر بھی دیکھا گیا۔ وہی الزامات، وہی دعوے مگر صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ۔۔۔کیا دونوں سیاسی جماعتوں کو ان تیرہ ماؤں کے درد کا رتی برابر بھی احساس تھا؟ بظاہر تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں : اے این ایف نئی بھرتیاں نہیں کرسکتا ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم ، اصل معاملہ کیا ہے ؟
اگر تحریک انصاف کی قیادت کو ان ماؤں کے درد کا احساس ہوتا تو ہری پور آیت نور کی ماں کے آنسو صاف کرنے پہنچتے۔ اسکے باپ کی پکار پر شاہد خٹک اور دیگر قیادت لبیک کہتی۔ لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ وہ ببانگ دہل کہتے ہیں کہ ہمیں تو اڈیالہ کے قیدی کی رہائی پر ووٹ ملے ہیں۔انہیں پمز کا دورہ دراصل اڈیالہ کے قیدی کیلئے بیانیہ بنانے کیلئے کرنا تھا۔
سہیل آفریدی سے لیکر مینہ آفریدی تک کوئی بھی فرد صوبے میں دہشتگردوں کا نشانہ بننے والے شہریوں اور پولیس اہلکاروں کے جنازے اور انکے اہلخانہ سے اظہارِ ہمدردی کیلئے نہیں گیا مگر برق رفتاری کیساتھ سیکورٹی کے جلو میں اسلام آباد ضرور پہنچ گئے۔
نہیں یہ سیاسی انارکی، یہ نفرت، یہ شعلہ بیانی عوام کیلئے نہیں بلکہ صرف ذاتی مفاد کیلئے ہے۔













