لاہور( پنجاب پوسٹ ) لاہور ٹریفک پولیس نے شہر میں گداگری کے خاتمے، مستحق افراد کی بحالی اور انہیں باعزت روزگار فراہم کرنے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے "پائلٹ پروجیکٹ” شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی جانب سے بھکاریوں کی بحالی اور انہیں خودمختار بنانے کے لیے منصوبے پر عملی پیش رفت جاری ہے۔ پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ابتدائی طور پر 10 خاندانوں کی سکروٹنی مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ مستحق اور واقعی ضرورت مند افراد کی نشاندہی کے لیے مزید خاندانوں کی پروفائلنگ کا عمل بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب میں غیرت کے نام پر گدھا قتل ، ملزم گرفتار
ٹریفک پولیس کے مطابق منصوبے کے تحت پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے تعاون سے منتخب افراد کو پیشہ ورانہ تربیت، روزگار اور چھوٹے کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ منتخب خاندانوں کو اپنے کاروبار کے قیام میں معاونت کے لیے پانچ، پانچ لاکھ روپے تک آسان قرضے فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ بھیک مانگنے کے بجائے باعزت طریقے سے روزگار کما سکیں۔
منصوبے میں بھکاری خاندانوں کے بچوں کی تعلیم اور بحالی کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ لاہور میں موجود جھونپڑیوں میں "جھونپڑی سکولز” قائم کرنے کی تجویز پر کام جاری ہے، تاکہ گداگری سے وابستہ خاندانوں کے بچوں کو تعلیم کے بنیادی مواقع فراہم کیے جاسکیں اور انہیں بھیک مانگنے کے ماحول سے نکال کر بہتر مستقبل کی طرف لایا جا سکے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق مستحق اور انتہائی مجبور افراد کی مدد کے لیے مختلف فلاحی اداروں سے بھی رابطے جاری ہیں۔ خواتین اور بچوں کو مختلف ہنر اور سکلز سکھانے کے لیے متعلقہ اداروں سے تعاون حاصل کیا جائے گا، جبکہ خواجہ سرا بھکاریوں اور خواتین کے لیے بھی فلاحی اداروں کے تعاون سے بیوٹی کورسز، سلائی اور کڑھائی سمیت مختلف تربیتی پروگرام شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کی مدد سے لاہور میں گداگروں کی مزید میپنگ، ریسرچ اور پروفائلنگ کا عمل جاری ہے۔ اس عمل کا مقصد ایسے افراد کی درست نشاندہی کرنا ہے جو واقعی مستحق اور مجبور ہیں، جبکہ پیشہ ورانہ طور پر گداگری کرنے والے عناصر کی بھی نشاندہی کی جاسکے۔
سی ٹی او لاہور کا کہنا ہے کہ منصوبے کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو بھیک سے نجات دلا کر انہیں باعزت، خودمختار اور معاشی طور پر مستحکم زندگی کی طرف لانا ہے۔ ایسے اقدامات پیشہ ورانہ گداگری کے خاتمے کے ساتھ ساتھ معاشرتی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ روز بروز گداگروں کی تعداد میں ہونے والے اضافے کو روکنے کے لیے مؤثر اور مستقل اقدامات کرنا ہوں گے۔ صرف کارروائیوں سے مسئلے کا مکمل حل ممکن نہیں، بلکہ مستحق افراد کو متبادل روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
لاہور ٹریفک پولیس کے مطابق شہر میں گداگری کے خلاف کارروائیاں بھی مسلسل جاری ہیں اور رواں سال 4500 سے زائد گداگروں کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے۔
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بحالی کے اس پائلٹ پروجیکٹ کا مقصد گداگری کے بنیادی اسباب کو حل کرنا اور مستحق افراد کو روزگار کے قابل بنانا ہے، تاکہ وہ بھیک مانگنے کے بجائے اپنے خاندانوں کا باعزت طریقے سے معاشی بوجھ اٹھا سکیں۔












