لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اور امریکہ کے آئی کھین اسکول آف میڈیسن ایٹ ماؤنٹسائناٹی نیویارک کے درمیان معاہدہ، پنجاب کے شہریوں کو کیا فوائد حاصل ہونگے؟

لاہور(پنجاب پوسٹ)حکومت پنجاب کے وژن کے مطابق انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور نے تعلیمی، تحقیقی اور بین الاقوامی تعاون کے میدان میں اہم کامیابی حاصل کر لی۔ آئی کن اسکول آف میڈیسن ایٹ ماؤنٹ سائنائی، نیویارک، امریکہ کے ساتھ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کا اہم اور اسٹریٹجک تعلیمی و تحقیقی اشتراک قائم کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود نے ڈین آئی پی ایچ پروفیسر سائرہ افضل اور ان کی ٹیم کو کامیاب پیش رفت پر شاباش دی ہے۔

ماؤنٹ سائنائی دنیا کے معروف طبی اداروں میں شمار ہوتا ہے جو طبی تعلیم، حیاتیاتی طبی تحقیق اور جدتِ طرازی کے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان یہ شراکت داری صحتِ عامہ کے فروغ، معیاری تعلیم، جدید تحقیق، جدت اور عالمی سطح پر تعاون کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتی ہے۔

معاہدے کے تحت دونوں ادارے صحتِ عامہ کو درپیش موجودہ اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ پروگرامز اور اقدامات تشکیل دیں گے۔ مشترکہ تعلیمی و سائنسی تحقیق کو عملی سطح پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ اساتذہ، محققین اور طلبہ کے تبادلے کے پروگرامز بھی شروع کیے جائیں گے۔

شراکت داری میں پیشہ ورانہ ترقی، انتظامی اور قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ، افرادی قوت کی استعدادِ کار بڑھانے، ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدتِ طرازی اور علمی تبادلے کے مختلف پروگرامز شامل ہوں گے۔ اس تعاون کے ذریعے صحتِ عامہ کے شعبے سے وابستہ ماہرین کو بین الاقوامی سطح پر ممتاز اداروں اور ماہرین کے ساتھ کام کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔

دونوں ادارے متعدی امراض، غیر متعدی امراض، ڈیجیٹل ہیلتھ، پرسیژن میڈیسن اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق کریں گے۔ اس کے علاوہ آفات سے متعلق صحتِ عامہ کے انتظام، پیشگی تیاری، ہنگامی صورتحال میں فوری ردِعمل، نظامِ صحت کی لچک اور بحالی کے اقدامات پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔

معاہدے کے تحت عالمی ذہنی صحت کے اسکریننگ پروگرامز پر بھی کام کیا جائے گا، جن کا مقصد ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت تشخیص، کمیونٹی کی سطح پر مؤثر مداخلتی اقدامات اور شواہد پر مبنی ذہنی صحت کی پالیسیوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اور ماؤنٹ سائنائی کے درمیان مشترکہ ورکشاپس، بین الاقوامی کانفرنسز، سرٹیفکیٹ کورسز اور استعدادِ کار بڑھانے کے پروگرامز بھی منعقد کیے جائیں گے، جس سے پاکستان میں صحتِ عامہ کے عملی اور تحقیقی شعبوں کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

پاکستان میں صحتِ عامہ کے لیے ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط علمی و تحقیقی میراث رکھنے والا انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ بامعنی بین الاقوامی شراکت داریوں کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ ادارے کا مقصد سائنسی علم کو صحت مند معاشروں، مضبوط اور لچکدار نظامِ صحت اور پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔

ڈین آئی پی ایچ پروفیسر سائرہ افضل کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ سائنائی کے ساتھ تعاون پاکستان کو صحتِ عامہ کی تعلیم، تحقیق، جدتِ طرازی، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور عالمی صحت کی قیادت کے لیے خطے میں مرکزِ امتیاز بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔

پروفیسر سائرہ افضل کے مطابق یہ شراکت داری اساتذہ، محققین، طلبہ اور صحتِ عامہ سے وابستہ ماہرین کے لیے غیر معمولی مواقع پیدا کرے گی۔ ماہرین بین الاقوامی سطح پر ممتاز سائنسدانوں اور طبی ماہرین کے ساتھ مل کر عالمی صحت کو درپیش اہم ترجیحات اور چیلنجز کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اعلیٰ اثرات کی حامل تحقیق کو فروغ دینے، ادارہ جاتی استعداد کو مضبوط بنانے اور جدتِ طرازی کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ سرحدوں سے بالاتر تعاون کے ذریعے صحتِ عامہ کے مستقبل کی تشکیل اور پاکستان سمیت دنیا بھر کی کمیونٹیز کے لیے بہتر صحت کے نتائج کا حصول شراکت داری کا اہم مقصد ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے