لاہور(پنجاب پوسٹ) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر میں نیشنل مینارٹی ویک کا آغاز کر دیا گیا، جو اس سے قبل ایک روزہ مینارٹی ڈے کے طور پر منایا جاتا تھا۔ اس سال اسے باقاعدہ طور پر ہفتہ بھر کی تقریبات میں تبدیل کیا گیا ہے تاکہ اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی ہم آہنگی کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
نیشنل مینارٹی ویک کے سلسلے میں مرکزی ریلی کا آغاز لاہور کے نولکھا چرچ سے کیا گیا، جس کی قیادت صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور و انسانی حقوق رمیش سنگھ اڑورہ نے کی۔ ریلی میں ممبر صوبائی اسمبلی طارق گل اور پارلیمانی سیکرٹری سونیا عاشر سمیت مسلم، سکھ اور مسیحی برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ریلی نولکھا چرچ سے شروع ہو کر مندر سے ہوتی ہوئی بادشاہی مسجد تک جائے گی، جو بین المذاہب ہم آہنگی اور اتحاد کی واضح علامت ہے۔ اس موقع پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
ریلی کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے رمیش سنگھ اڑورہ نے کہا کہ آج کی تقریب قائداعظم محمد علی جناح کے اس وژن کی عکاسی کرتی ہے جس میں انہوں نے پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق دینے کی بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ اقلیتیں ان کے سر کا تاج ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم وہ خوش قسمت پاکستانی ہیں جنہوں نے 10 مئی کو بھارت کو ذلت آمیز شکست دی، اور آج دنیا پاکستان کو امن کا علمبردار تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے ملک کے وقار اور عزت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ ریلی ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے افراد کا خوبصورت گلدستہ ہے، جو پاکستان میں اتحاد، بھائی چارے اور برداشت کی روشن مثال پیش کرتا ہے۔













