بلاول بھٹو اپنی عوامی رابطہ مہم کا آغاز گلزار ہاوس لاہور سے کریں ، پیپلز پارٹی لاہور کے رہنماوں کی اپیل

لاہور:(پریس کانفرنس رپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے آزاد کشمیر الیکشن میں مبینہ دھاندلی، پنجاب حکومت کی ناقص کارکردگی اور بڑھتے ہوئے قرضوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو سیاسی شائستگی اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ باتیں پیپلز پارٹی کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی گئیں جس سے وائس پریذیڈنٹ ازین گلزار، ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری احمد رحمان گھمن اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری خرم فاروق ایڈووکیٹ نے خطاب کیا، جبکہ اس موقع پر ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری حسن عباس بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس پریذیڈنٹ ازین گلزار نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کی کہ وہ اپنی عوامی رابطہ مہم کا آغاز تاریخی گلزار ہاؤس لاہور سے کریں، کیونکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جدوجہد کی یادگار گلزار ہاؤس ہی سے عوامی تحریک کا آغاز ہونا چاہیے۔ انہوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والے شہری مسائل کے مستقل حل پر توجہ دی جائے، کیونکہ صرف خوبصورت سڑکیں بنانا کارکردگی نہیں بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہی اصل کارکردگی ہے۔ انہوں نے نکاسیٔ آب اور صاف پینے کے پانی جیسے مسائل کے فوری حل پر زور دیا۔ سیاسی اخلاقیات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی حملوں اور غیر مہذب مہم میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اور مسلم لیگ (ن) کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر بلاول بھٹو زرداری سے متعلق نامناسب میمز کی مذمت کی۔

انہوں نے مریم نواز شریف سے اپیل کی کہ وہ اپنی ٹیم کو سیاسی شائستگی برقرار رکھنے کی ہدایت دیں، کیونکہ بلاول بھٹو زرداری نے ہمیشہ سیاسی مؤقف پیش کیا ہے اور کسی کے خلاف نازیبا زبان استعمال نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے کے ساتھ ساتھ احترام اور برداشت بھی ضروری ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی مثبت، مہذب اور عوامی سیاست پر یقین رکھتی ہے جبکہ عوامی مسائل کا حل ہی حکومت کی اصل ترجیح ہونی چاہیے۔اس موقع پر ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری احمد رحمان گھمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار پر کوئی کمپرومائز نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جس طرح کے الیکشن پہلے دو مراحل میں ہوئے ہیں، تیسرا مرحلہ اسی طرح نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ زور، زبردستی، دھاندلی اور مار پیٹ مسلم لیگ (ن) کے ڈی این اے میں شامل ہے اور یہ جماعت پنجاب کے وسائل کے بل بوتے پر آزاد کشمیر کا الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کو وادی میں آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ الیکشن کرانے میں مکمل طور پر ناکام قرار دیا اور بتایا کہ پیپلز پارٹی اب تک دھاندلی اور انتخابی بے ضابطگیوں کی پینتیس شکایات جمع کروا چکی ہے، تاہم الیکشن کمشنر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

معاشی معاملات پر بات کرتے ہوئے احمد رحمان گھمن نے کہا کہ اس وقت پنجاب کا ہر شہری تیرہ ہزار پانچ سو اڑتیس روپے کا مقروض ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی و خوشحالی کے دعوے کرنے والوں نے پنجاب کو تقریباً ایک ہزار سات سو ساٹھ ارب روپے کا مقروض بنا دیا ہے اور گزشتہ دو برسوں میں پنجاب کے قرضوں میں پچھتر ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ پنجاب کے ذمے واجب الادا تمام رقم بیرونی قرضوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے حکمرانوں کو سب سے زیادہ خوف پیپلز پارٹی کے سوالات اٹھانے سے آتا ہے اور جب لاہور ڈویژن میں گورننس پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو حکومتی جماعت سندھ پر تنقید شروع کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوالات ضرور اٹھائے جائیں مگر صوبائی منافرت پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ حکومتی ترجمانوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھی ترجمانیوں کا سارا زور کیمروں کے سامنے طعنہ زنی پر ہوتا ہے اور پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف بے بنیاد باتیں کی جاتی ہیں۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ نوکری بچانے کے چکر میں ایک ترجمان روزانہ مختلف بہانوں سے پریس کانفرنس کرتی ہیں اور پریس کانفرنسوں کی تعداد کے اعتبار سے وہ شاید بابر اعظم کی سنچریوں اور نصف سنچریوں کا ریکارڈ بھی توڑ چکی ہیں۔ انہوں نے وزیر تعلیم کو مشورہ دیا کہ کسان کے بیٹے کی کامیابی کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ کسان کی حالتِ زار پر بھی روشنی ڈالی جائے۔پریس کانفرنس میں ڈپٹی جنرل سیکرٹری خرم فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ کشمیر الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے اپنے ہی دھاندلی کے سارے پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور مریم نواز کے والد کی جاگیر نہیں اور نہ ہی یہ انہیں حقِ مہر میں ملا ہے، بلکہ لاہور لاہوریوں کا ہے اور لاہوری بھٹو سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مریم نواز کے دورِ حکومت میں پولیس سہولت کاری کرتی ہے اور تھانے دادرسی کی بجائے ریپ کے اڈے، قتل گاہیں اور اغوا برائے تاوان کی جگہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا مہنگائی ختم ہوئی، کیا بے روزگاری میں کمی آئی، کیا کرپشن میں کمی آئی اور کیا شہری کو انصاف اور بنیادی سہولتیں حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست خدمت کا نام ہے، تشہیر کا نہیں، اور شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتے تھے اور پیپلز پارٹی آج بھی اسی فلسفے پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی عوامی حقوق کی آواز بلند کرتی رہے گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے