بلاول کو سیف ایگزیٹ دیتی ہوں، عظمی بخاری کو رحمان ڈکیت کیوں یاد آگیا

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلاول بھٹو کو "سیف ایگزٹ” دینا چاہتی ہیں کیونکہ انہیں غلط مشورے دیے جاتے ہیں اور ان سے جذباتی بیانات دلوائے جاتے ہیں، جن پر بعد میں انہیں خود صفائیاں پیش کرنا پڑتی ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پہلے یہ دعویٰ کیا گیا کہ صدر آزاد کشمیر پر فائرنگ ہوئی، بعد ازاں مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ صرف دھکم پیل ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر الیکشن میں چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑے ہو جاتے ہیں، تاہم انہیں غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کو ایسے مشورے دیے جاتے ہیں کہ "جو کان میں ڈالا جائے، وہی بول دو”، جس کے باعث وہ غلط اور جذباتی بیانات دے دیتے ہیں اور بعد میں وضاحتیں دینا پڑتی ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ گورنر ہاؤس میں رکشہ یونین کا جلسہ بھی نہیں کیا جا سکا۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر انتخابات میں اب تک پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک لاکھ سات ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر چکی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو صرف بیس ہزار ووٹ ملے ہیں، اس لیے دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں تھا۔

اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اکثر ایسے بیانات دے دیتے ہیں جو بعد ازاں تنازع کا باعث بنتے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں یا ان کی جماعت کو وضاحتیں پیش کرنا پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو قومی معاملات پر ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ اظہارِ خیال کرنا چاہیے تاکہ غیر ضروری سیاسی تنازعات سے بچا جا سکے۔

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم قومی مفاد کے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو غلط فہمی یا کشیدگی کا باعث بنیں۔ان کا مزید کہنا تھا آزاد کشمیر کے لوگ آپ کے رونے دھونے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔سندھ میں بھی چیف سیکرٹری اور آئی جی ہے وہاں آپ کیسے جیت جاتے ہی۔ڈھائی سال پر ان کو یاد آ گیا ہےُکہ دو ہزار چوبیس الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی۔ان کا کہنا تےھا کہ گلو بٹ کے طعنے نہ دیں عزیر بلوچ ،رحمان ڈکیت سب یاد ہیں،اتنا آگے نہ جائیں کہ واپسی کا راستہ نہ رہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے