خواتین کیخلاف جرائم کے فرانزک شواہد کیسے محفوظ بنائے جائیں گے؟ وومن پروٹیکشن اتھارٹی اور فرانزک سائنس اتھارٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت سے کیا فائدہ ہوگا؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات میں فرانزک شواہد کے مؤثر تحفظ اور انصاف کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی اور پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے۔

چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ اور ڈی جی پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی ڈاکٹر محمد امجد نے ایم او یو پر دستخط کیے۔ مفاہمتی یادداشت کے تحت خواتین کے خلاف جرائم میں فرانزک شواہد کے تحفظ، آگاہی اور مؤثر انتظام کے لیے ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

معاہدے کے تحت ضلعی اور فرنٹ لائن ویمن پروٹیکشن افسران کی فرانزک شواہد سے متعلق تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے کے لیے بھی مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ شواہد کو بروقت اور مناسب طریقے سے محفوظ کیا جا سکے۔

چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے کیسز میں فرانزک شواہد مؤثر انصاف کے لیے انتہائی اہم ہیں، جبکہ فرانزک آگاہی اور شواہد کے بہتر انتظام سے کیسز کی تفتیش مزید مؤثر بنائی جا سکتی ہے۔

ڈی جی پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی ڈاکٹر محمد امجد نے کہا کہ جرم کے بعد ابتدائی 24 گھنٹے شواہد کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں، اس لیے متعلقہ افسران کی تربیت اور بروقت شواہد محفوظ کرنا ناگزیر ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے