لاہور ( پنجاب پوسٹ) دو روز قبل تھانہ ٹاون شپ میں دوران حراست دو خواتین کی پراسرار موت میں اہم انکشاف سامنے آیا۔ پولیس حکام کے مطابق نہ تو ان خواتین کا شناختی کارڈ بنا تھا اور نہ ہی انکے خاندان کے کسی بھی فرد کے پاس کوئی شناختی دستاویز تھی۔
نجی ٹی چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق چند روز قبل تھانہ ٹاؤن شپ میں دو ملزم خواتین پراسرار طور پر ہلاک ہوئی تھی جن کی وجہ شناخت تو نہیں ہو رہی تھی لیکن بعد میں شناخت کے انمول اور آمنہ کے نام سے ہوئی۔جنہیں لٹن روڈ تھانہ منتقل کیا جارہا تھا ۔ ابتدا میں ان خواتین کی شناخت نہیں ہو پا رہی تھی کیونکہ ان کا شناختی کارڈ نہیں تھا انہوں نے شناختی کارڈ نہیں بنایا ۔
یہ بھی پڑھیں :تھانہ ٹاون شپ میں 2 خواتین کی پراسرار موت، پولیس کی تحقیقات کا آغاز، ابتدائی رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟
ڈی ائی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا کا کہنا ہے کہ ان کے پورے خاندان نے شناختی کارڈ نہیں بنایا ہوا۔ خواتین کی موت کے بعد پوسٹ مارٹم کیلئے ورثا کو بلایا ۔ لیکن ان مین سے بھی کسی کے پاس کوئی شناختی دستاویز نہیں تھی۔
مَزید پڑھیں :"ہمارے دم میں ہر بیماری کا علاج ہے ” لاہور تھانے میں 3 خواتین کی پر اسرار موت،ماری جانے والی عورتیں کون نکلیں؟
پولیس کا کہنا ہے کہ اس شناختی کا اس لیے نہیں بنواتے کیونکہ یہ تمام ڈکیت خاندان ہیں اور ریکارڈ یافتہ ہیں اس کی وجہ سے شناختی کا نہیں بنوایا ۔ اب ان کے دور کے رشتہ داروں کے شناختی کارڈ کو استعمال کرتے ہوئے لڑکیوں کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ جسکے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے کہ ان کی موت کی وجہ کیا ہے تا ہم ان کی طبیعت کیوں خراب ہوئی؟ موت کیسے ہوئی تمام حقائق ہیں یہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد واضح ہو نگے













