لاہور( پنجاب پوسٹ) لاہور میں رجسٹرڈ گاڑیوں میں کمرشل گاڑیوں کا تناسب صرف تقریباً 5 فیصد، مگر مہلک حادثات میں 48 فیصد انہی گاڑیوں کے باعث رونما ہوئے ہیں ۔ اسی سلسلے میں اب بار بار حادثات اور کریمنل ریکارڈ رکھنے والے کمرشل ڈرائیورز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی زیرِ صدارت کمرشل گاڑیوں سے متعلق بڑھتے ہوئے مہلک حادثات کی روک تھام کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ بار بار حادثات میں ملوث، کریمنل ریکارڈ رکھنے والے اور غیر ذمہ دار کمرشل ڈرائیورز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
اجلاس میں ایس پی ہیڈکوارٹرز فخر بشیر راجہ، ڈی ایس پیز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ سی ٹی او لاہور نے ایس پی ہیڈکوارٹرز کو حادثات کی وجوہات کا تفصیلی تجزیہ اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کرنے کا خصوصی ٹاسک سونپ دیا۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب میں ٹریفک پولیس نے ٹریفک حادثات میں 51 فیصد کمی کیسے ممکن بنائی؟
اجلاس کو بتایا گیا کہ لاہور میں تقریباً 82 لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، جن میں 3 لاکھ 48 ہزار کمرشل گاڑیاں شامل ہیں، جو کل رجسٹرڈ گاڑیوں کا تقریباً 5 فیصد بنتی ہیں۔ تاہم تشویشناک امر یہ ہے کہ مہلک ٹریفک حادثات میں 48 فیصد کمرشل گاڑیاں ملوث پائی گئی ہیں، جس کے پیش نظر سخت اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے ہدایت کی کہ تمام پبلک سروس اور کمرشل ڈرائیورز کا کریمنل ریکارڈ، ڈرائیونگ ہسٹری اور ڈرائیونگ لائسنس باقاعدگی سے چیک کیا جائے۔ ایسے ڈرائیورز جو جرائم، سنگین ٹریفک خلاف ورزیوں یا بار بار حادثات میں ملوث رہے ہوں، انہیں کمرشل گاڑیاں چلانے کی اجازت نہ دی جائے۔
انہوں نے تمام ٹرانسپورٹ یونینز اور گاڑی مالکان کو ہدایت کی کہ کریکٹر سرٹیفکیٹ اور مکمل ریکارڈ کی جانچ کے بغیر کسی بھی ڈرائیور کو گاڑی نہ دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر ذمہ دار یا ریکارڈ یافتہ ڈرائیورز کو دوبارہ گاڑیاں فراہم کرنے والے مالکان اور سہولت کار بھی قانون کی گرفت میں آئیں گے۔
سی ٹی او لاہور کا کہنا تھا کہ اب صرف حادثات کے ذمہ دار ڈرائیور ہی نہیں بلکہ انہیں گاڑیاں فراہم کرنے والے سہولت کاروں کا بھی احتساب کیا جائے گا تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں : پنجاب بھرمیں 1086ٹریفک حادثات میں 11افراد جاں بحق1229زخمی، بڑی وجہ کیا تھی؟
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ جعلی، منسوخ شدہ یا غیر مؤثر (Invalid) ڈرائیونگ لائسنس رکھنے والے کمرشل ڈرائیورز کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا کہ لاہور میں کمرشل گاڑیوں کے حادثات میں نمایاں کمی لانے کے لیے جامع حکمت عملی نافذ کی جا رہی ہے، حادثات کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کے لیے سخت مانیٹرنگ شروع کر دی گئی ہے، اور روڈ سیفٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں : لاہور ٹریفک پولیس نے68 ڈرائیورز کے لائسنس اچانک کیوں معطل کر دیے؟











