سندھ کے عوام بھی پنجاب جیسی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں، رانا سکندر حیات

لاہور (پنجاب پوسٹ) وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کا کہنا ہے سندھ کے عوام بھی اپنے صوبے میں پنجاب جیسی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں۔

صوبائی وزیر فیصل ایوب کھوکھر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر تعلیم پنجاب کا کہنا تھا پاکستان عالمی امن میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، پنجاب بڑا بھائی ہے اور اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اپنی کارکردگی کی بنیاد پر آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی، مسلم لیگ ن کی حکومت ملک بھر میں سیکڑوں ترقیاتی منصوبے لے کر آئی، آزاد کشمیر کے نوجوانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ترقی کو ووٹ دیا ہے، دوسرے مرحلے کے الیکشن میں پھر مریم نواز جیتے گی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اصولوں کی سیاست پریقین رکھتی ہے۔

رانا سکندر حیات کا کہنا تھا میں یہ نہیں کہوں گا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں کشمیر ٹوٹا، لیکن سندھ کے عوام بھی وہاں کی قیادت سے پوچھتے ہیں وہاں ترقی کب آئے گی، سندھ کے عوام بھی پنجاب جیسی میں ترقی سندھ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں کشمیریوں نے کسی کھوکھلے بیانیے کو نہیں بلکہ مریم نواز شریف کی شاندار کارکردگی اور قائد محمد نواز شریف کے ترقیاتی ویژن کو ووٹ دیا ہے۔

جہاں پیپلز پارٹی جیت جائے وہاں نتائج ٹھیک اور جہاں ہار جائے وہاں دھاندلی کا شور مچایا جاتا ہے۔ کاش کہ وہ الزامات کے بجائے اپنی کسی کارکردگی، الیکٹرو بس، دانش اسکول یا ہسپتال کا ذکر کر سکتے۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ آج الحمدللہ پاکستان کو دنیا بھر میں امن کے سفیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور ہماری سیاست کا محور ہمیشہ عوام کی خدمت اور ملک کی ترقی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ صرف ڈیلیوری اور پرفارمنس پر مرکوز ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈھائی سال میں 600 ارب روپے سے زائد کا لوکل قرضہ ختم کیا گیا، جس پر روزانہ 20 سے 25 کروڑ روپے سود ادا کیا جا رہا تھا۔ تعلیم کے شعبے میں یونیورسٹیز کا بجٹ 2 ارب سے بڑھا کر 21 ارب جبکہ اسکول ایجوکیشن کا بجٹ 2 بلین سے بڑھا کر 65 بلین کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں انرولمنٹ 1 کروڑ 65 لاکھ تک پہنچ گئی۔

انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہاں ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا؟ کرپشن، مورالٹی اور جمہوریت پر لیکچر دینے والے بتائیں کہ کراچی پورٹ اور اسکول ایجوکیشن کے حوالے سے انہوں نے کیا کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ “زیادہ بارش سے زیادہ پانی” جیسے بیانات کے بجائے سندھ میں بھی واسا، بندوں کی تعمیر اور رین واٹر ہارویسٹنگ پر کام کیا جانا چاہیے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے