لاہور میں بھکاری مافیا کی شامت آگئی، حکومت پنجاب کا بڑا منصوبہ تیار

لاہور(پنجاب پوسٹ) پنجاب حکومت نے پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں لاہور کو بھکاری مافیا سے پاک کرنے کا ٹاسک دے دیا۔

سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی زیر صدارت محکمہ داخلہ میں اجلاس ہوا، جس میں لاہور کو ’’بیگرز فری سٹی‘‘ بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ کارروائیاں کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں پیشہ ور بھکاریوں کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے سیف سٹی اتھارٹی اور ٹریفک پولیس کو ٹاسک سونپ دیا گیا، جبکہ بھکاری مافیا کے ہاٹ اسپاٹ مقامات کی نشاندہی کرکے کارروائیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ پیشہ ور بھکاریوں کے ہینڈلرز کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے، جبکہ معصوم بچوں، بزرگوں اور خواتین سے زبردستی بھیک منگوانے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے پیشہ ور بھکاریوں اور مافیا چیفز کے خلاف کارروائی کے لیے قانون میں ترامیم کی ہیں، جبکہ سزاؤں اور جرمانوں میں کئی گنا اضافہ کیا گیا ہے۔

سیکرٹری داخلہ نے ہدایت کی کہ گرفتار بھکاری مافیا کو مؤثر پراسیکیوشن کے ذریعے سخت سزائیں دلوائی جائیں، جبکہ بار بار گرفتار ہونے والے پیشہ ور بھکاریوں کا ڈیٹا بیس بھی مرتب کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف مہم میں جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلیجنس کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے اور تمام متعلقہ محکمے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کریں۔

سیکرٹری داخلہ کے مطابق پنجاب میں ترمیم شدہ پنجاب وگرنسی آرڈیننس 1958 نافذ العمل ہے، جس کے تحت زبردستی بھیک منگوانا ناقابلِ ضمانت جرم ہے۔

اجلاس میں ویلفیئر ہومز کی استعداد بڑھانے اور ضرورت مند افراد کے لیے خوراک، صحت اور رہائش کی سہولیات بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ ویلفیئر ہومز میں کم عمر بچوں کی تعلیم اور ضرورت مند افراد کو مختلف ہنر سکھانے کے انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ضرورت مند افراد کو خود کفیل بنانے کے لیے ویلفیئر ہومز کو معاشرتی فلاح کے مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جبکہ کمزور طبقات کی مدد کے لیے سول سوسائٹی کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ پیشہ ور بھکاری مافیا سے متعلق اطلاع پولیس ایمرجنسی نمبر 15 پر دیں۔ ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق اطلاع دینے والے شہری کی شناخت صیغہ راز میں رکھی جائے گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے