لاہور(پنجاب پوسٹ) وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے میں حلال قوانین کے مؤثر نفاذ اور معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ، پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی (PHDA) اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے زیر اہتمام تاریخ کا پہلا حلال فوڈ سمٹ لاہور میں منعقد ہوا۔
سمٹ کا افتتاح وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی سلمیٰ بٹ، سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید اور ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی و رجسٹرار پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی راجہ منصور احمد نے کیا۔
معاونِ خصوصی سلمیٰ بٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق کھیت سے پلیٹ تک حلال، معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے مربوط حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حلال فوڈ کی اصل روح معیار، پاکیزگی اور "طیب” خوراک ہے، جبکہ پروڈکشن سے سپلائی چین تک مکمل حلال میکانزم نافذ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:اپنے مویشی کو اپنا کاروبار کیسے بنائیں؟ وزیراعلیٰ مریم نواز نے فارمولا بتا دیا
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کے حلال غذا کے حق، غذائی تحفظ اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ فوڈ اور نان فوڈ مصنوعات کی درجہ بندی اور حلال نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر نیا ریگولیٹری نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ نے مختصر عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور نان فوڈ سیکٹر کی میپنگ اور انفورسمنٹ پر بھی بھرپور کام جاری ہے۔
ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی و رجسٹرار پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی راجہ منصور احمد نے کہا کہ پنجاب حکومت حلال فوڈ اور نان فوڈ شعبوں میں ریگولیٹری کمپلائنس، حلال سرٹیفکیشن، استعداد کار میں اضافے اور تجارت و صنعت کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب کے 10 ڈویژن کے 485 دیہات کیسے ماڈل ویلج بنائے جائیں گے؟
انہوں نے کہا کہ حلال نظام کو صرف مذہبی تصور نہیں بلکہ ایک جامع ریگولیٹری کمپلائنس سسٹم کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے، جبکہ فوڈ اور نان فوڈ انسپیکشن میں حلال تقاضوں کے مؤثر نفاذ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
سمٹ میں ماہرینِ غذا، تعلیمی اداروں کے نمائندوں، عالمی مقررین اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جہاں حلال فوڈ انڈسٹری، بین الاقوامی تجربات، سرمایہ کاری، برآمدات اور حلال ایکو سسٹم کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔










