اسلام آباد (پنجاب پوسٹ) اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں 26 اگست کو لگنے والی آگ میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد زندہ بچ جانے والی واحد بچی ایزل بھی کئی ہفتے آئی سی یو میں زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئی۔
نرس رضیہ نورین نے 26 اگست کو پمز ہسپتال کی نرسری میں لگی آگ کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک ننھی بچی کو باہر نکالا تھا۔ وہ بچی ایزل تھی جو اس سانحے میں زندہ بچ جانے والی واحد نومولود بچی تھی لیکن اس کی زندگی شاید اتنی ہی تھی کیونکہ کئی ہفتے آئی سی یو میں زیر علاج رہنے کے بعد اب وہ بھی انتقال کر گئی ہے۔
پمز کی نرسری میں آگ لگنے کے وقت 15 نومولود بچے موجود تھے جن میں سے 14 جاں سے گئے۔ نرس رضیہ نورین نے دھویں اور آ۔۔گ کے درمیان اندر داخل ہو کر ایزل کو اٹھایا اور باہر لائیں۔ بعد میں بچی کو ا۔نتہائی نگہد۔اشت کے شعبے میں منتقل کیا گیا جہاں اس کا علاج جاری رہا۔
ایزل کی والدہ آصفہ بی بی کے مطابق بچی 12 اگست کو پیدا ہوئی تھی اور یہ ان کی پہلی اولاد تھی۔ آگ کے دوران دھویں سے متاثر ہونے کے بعد اس کی حالت مسلسل تشو۔۔یشنا۔۔ک رہی۔ والدہ نے بتایا کہ کبھی طبیعت میں بہتری آتی اور کبھی حالت بگڑ جاتی جبکہ بچی کو خون بھی لگایا گیا۔
دوسری جانب نرس رضیہ نورین کی بہادری کو سرکاری سطح پر بھی سراہا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں ایک کروڑ روپے کا انعام دیا اور سول اعزاز دینے کا اعلان کیا جبکہ بعد ازاں ایک چینی کمپنی نے بھی انہیں 10 لاکھ روپے دیے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی نورین کے لیے تمغۂ شجاعت کی منظوری دی۔
اس دوران پمز نرسری میں ہونے والی آ۔۔گ کی تحقیقات بھی جاری رہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں واقعے کو ادارہ جاتی اور انتظامی ناکامیوں سے جوڑا گیا جبکہ آ۔۔گ کی ممکنہ وجہ اے سی کی بجلی کی سپلائی کیبل میں خرابی بتائی گئی۔ رپورٹ میں فا۔ئر سیفٹی، دھویں کا پتا لگانے والے نظام، الارم اور دیگر حفاظتی انتظامات میں خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔
مگر ان تحقیقات اور کارروائیوں کے درمیان ایزل زندگی کی جنگ لڑتی رہی۔
اب کئی دن آئی سی یو میں رہنے کے بعد ایزل بھی دنیا سے رخصت ہوگئی ہے۔ یوں پمز کی اس نرسری میں موجود 15 نومولود بچوں میں سے کوئی بھی اپنے گھر واپس نہ جا سکا۔
اس بچی کو نرس نورین نے آ۔۔گ سے تو نکال لیا تھا لیکن اسے زندگی نہ دی جاسکی۔
انا للہ وانا الیہ راجعون













