لاہور(پنجاب پوسٹ)سوئی ناردرن گیس کمپنی کے مختلف ریجنز میں مبینہ طور پر ایسے ملازمین کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جو باقاعدگی سے ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوتے، تاہم ان کے نام پر ہر ماہ تنخواہیں جاری ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض ملازمین بیرونِ ملک منتقل ہو چکے ہیں، جن میں سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں موجود افراد بھی شامل ہیں، لیکن کمپنی کے ریکارڈ میں ان کی حاضری اور تنخواہوں کا سلسلہ مبینہ طور پر برقرار ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض غیر حاضر ملازمین کے نام پر تنخواہوں کے ساتھ اوور ٹائم کی ادائیگی بھی جاری ہے، جبکہ دوسری جانب فیلڈ اور دفاتر میں باقاعدگی سے فرائض انجام دینے والے ملازمین کو اوور ٹائم کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس صورتحال نے کمپنی کے حاضری، پے رول اور اوور ٹائم ریکارڈ کی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سوئی ناردرن کے بعض ملازمین مبینہ طور پر اعلیٰ افسران کے گھروں میں ذاتی نوعیت کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعلیٰ افسران سے لے کر ڈپٹی چیف سطح تک بعض افسران کی رہائش گاہوں پر کام کرنے والے افراد کی تنخواہیں بھی مبینہ طور پر محکمہ کی جانب سے ادا کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض ملازمین طویل عرصے سے اپنی اصل ڈیوٹی انجام نہ دینے کے باوجود کمپنی کے پے رول پر موجود ہیں۔

مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے ملازمین کی اصل تعیناتی، ڈیوٹی کی جگہ، حاضری رجسٹر، پے رول، اوور ٹائم اور دیگر مراعات کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مبینہ گھوسٹ ملازمین اور غیر مجاز طور پر ذاتی ڈیوٹیوں پر مامور افراد کی مجموعی تعداد اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مالی اثرات کا تاحال تعین سامنے نہیں آ سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کی شفاف جانچ پڑتال سے حاضری اور تنخواہوں کے ریکارڈ میں موجود مبینہ تضادات سامنے آ سکتے ہیں، جبکہ اندرونی آڈٹ اور محکمانہ نگرانی کے نظام کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ تاہم ان تمام دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔














