لاہور (پنجاب پوسٹ)وزیراعلیٰ پنجاب کے جیل ریفارمز ایجنڈے کے تحت ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پنجاب کی جیلوں میں قید افراد کی بحالی اور رہائی کے بعد باعزت زندگی کی فراہمی کیلئے "نیا آغاز پروگرام” کا باضابطہ اجراء کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مستحق رہا ہونے والے قیدیوں کو دو لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ جیل میں حاصل کی گئی فنی تربیت کی بنیاد پر اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرکے معاشرے کے خود کفیل اور باعزت شہری بن سکیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب اور اخوت اسلامک مائیکرو فنانس کے درمیان اس پروگرام کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ تقریب میں چیئرمین وزیراعلیٰ پنجاب ٹاسک فورس برائے جیل خانہ جات رانا منان خان، سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب، آئی جی پریزن میاں سالک جلال، سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے، جبکہ ڈی آئی جی پریزن احمد نوید گوندل اور سی ای او اخوت ڈاکٹر کامران شمس نے ایم او یو پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب بھر میں غیر قانونی مقیم افغانیوں کی شامت آگئی، اب تک کتنے افغانی ڈی پورٹ ہوئے؟
حکام کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں اس وقت ہنرمند اسیر پروگرام کے تحت قیدیوں کو 23 مختلف شعبوں میں تکنیکی اور ووکیشنل تربیت دی جا رہی ہے، جبکہ تمام جیلوں میں باقاعدہ سرٹیفائیڈ تربیتی پروگرام جاری ہیں تاکہ رہائی کے بعد روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔”نیا آغاز پروگرام” کیلئے اخوت اسلامک مائیکرو فنانس نے ابتدائی طور پر 50 لاکھ روپے کا گردشی فنڈ مختص کیا ہے۔ مستحق افراد کو دو لاکھ روپے تک قرضِ حسنہ دیا جائے گا، جس کی واپسی 36 ماہ کی مساوی ماہانہ اقساط میں ہوگی۔ یہ قرض نئی کاروباری سرگرمی شروع کرنے یا پہلے سے موجود کاروبار کو وسعت دینے کیلئے استعمال کیا جا سکے گا، جبکہ واپس ہونے والی رقم دوبارہ فنڈ میں شامل کر کے مزید مستحق افراد کو قرض فراہم کیا جائے گا۔پریزن ڈیپارٹمنٹ رہائی سے قبل قیدیوں کی مکمل جانچ، جیل میں ان کے طرز عمل اور حاصل کردہ فنی تربیت کی بنیاد پر اہل افراد کی سفارش کرے گا۔ جیل سپرنٹنڈنٹس آئندہ تین ماہ میں رہا ہونے والے اہل قیدیوں کی نشاندہی کریں گے تاکہ رہائی سے پہلے ہی قرض کی منظوری کا عمل مکمل کیا جا سکے، تاہم ہر درخواست کی حتمی جانچ اخوت اسلامک مائیکرو فنانس اپنے قواعد و ضوابط کے مطابق آزادانہ طور پر کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب کے مزید 4 لاکھ 64 ہزار شہری کیوں ڈرائیور بن گئے؟
محکمہ داخلہ کے مطابق نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی فہرستوں میں شامل افراد اس سہولت کے اہل نہیں ہوں گے، جبکہ قرض کی عدم ادائیگی یا کاروباری نقصان کی صورت میں محکمہ داخلہ یا پنجاب جیل خانہ جات کسی مالی ذمہ داری کے پابند نہیں ہوں گے۔ منصوبے کے تمام انتظامی اور آپریشنل اخراجات اخوت اسلامک مائیکرو فنانس برداشت کرے گا۔
چیئرمین ٹاسک فورس رانا منان خان نے کہا کہ بلاسود قرضوں کے ذریعے رہا ہونے والے قیدیوں کو مالی خود کفالت اور معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنایا جائے گا، جبکہ پریزن ریفارمز وزیراعلیٰ پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ حکومت پنجاب قیدیوں کی جامع بحالی اور معاشرے میں دوبارہ کامیاب انضمام کیلئے پُرعزم ہے اور "نیا آغاز” غربت میں کمی، معاشرتی بحالی اور باعزت روزگار کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ یہ پروگرام مکمل طور پر قرضِ حسنہ کے اصول کے تحت سود سے پاک ہوگا اور سزا مکمل کرنے والے افراد کو نئی زندگی شروع کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اخوت اب تک 45 لاکھ خاندانوں کو 500 ارب روپے سے زائد کے بلاسود قرض فراہم کر چکی ہے۔
آئی جی پریزن میاں سالک جلال کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں قائم ٹیوٹا اور پی وی ٹی سی مراکز سے 28 ہزار سے زائد اسیران تربیتی سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں، جبکہ اس وقت بھی 6500 قیدی مختلف ہنر سیکھ رہے ہیں اور ان کی ذہنی و سماجی بحالی کیلئے 74 ماہرین نفسیات خدمات انجام دے رہے ہیں۔














